پاکستان کے ساتھ تعلقات نئے دورمیں داخل ہوچکے، ازبک سفیر
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
ازبکستان کے سفارتخانے اور اتحاد پبلیکیشنز کے زیر اہتمام کتاب "ازبکستان، تیسری نشاۃ ثانیہ، مستقبل کا تصور" کی شاندار تقریبِ رونمائی نجی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ، صدرِ مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی، وسطی ایشیائی ممالک کے سفیروں سمیت مختلف اہم شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور پاکستان اور ازبکستان کے قومی ترانے بجا کر کیا گیا۔ازبکستان کے سفیر علی شیر تختایف نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور مصنف کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ازبک صدر شوکت میر ضیایف اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ"پاکستان اور ازبکستان کے مابین تاریخی تعلقات ہیں،ہمارے مشترکہ ثقافتی ورثے ہیں, سنٹرل ایشیا کے ممالک پاکستان کے گوادر سمیت دیگر بندرگاہوں کے ذریعے تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔
کتاب کے مصنف محمد عباس خان اور پبلشر طاہر فاروق نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان ایک مشترکہ تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے امین ہیں، اور دونوں ملکوں کی موجودہ قیادت تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہے۔
ازبکستان کے سفیر کہا کہ تم تمام ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات پر یقین رکھتے ہیں، باہمی تعمیر و ترقی وقت کی ضرورت ہے۔
جماعتِ اسلامی کے ڈائریکٹر فارن افیئرز آصف لقمان قاضی نے بھی کتاب کی اشاعت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کے تاریخی و فکری روابط مزید مضبوط ہوں گے۔تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ازبکستان کے کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔