وفاقی وزیراطلاعات سے روس کے سفیر البرٹ پی خوروف کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2025ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ سے پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوروف نے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات، شمالی علاقہ جات کی قدرتی خوبصورتی، سیاحت کے فروغ اور میڈیا تعاون کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں قومی خبر رساں ادارہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن (اے پی پی) اور روس کی Sputnik نیوز ایجنسی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویڑن (پی ٹی وی ورلڈ) اور آر ٹی (رشین ٹی وی) کے مابین تعاون کے معاہدے کو حتمی شکل دینے پر بھی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر عوامی سطح کے تبادلہ پروگرام کے تحت ڈیجیٹل انفلوئنسرز اور نوجوانوں پر مشتمل وفود کے تبادلوں سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔(جاری ہے)
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ روس کے سفیر نے کہا کہ پاکستان میں شمالی علاقہ جات کی سیاحتی صلاحیت دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے پرکشش ہے، روسی سیاح پاکستان کے سیاحتی علاقوں میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات کو نئی جہتوں سے استوار کرتے ہوئے عملی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا۔ دونوں رہنمائوں نے میڈیا، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے روس کے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔