سانحہ کارساز‘ 18 ویں برسی‘ پی پی آج ملک بھر میں دعائیہ تقریبات منعقد کریگی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
لاہور (نامہ نگار) پاکستان پیپلز پارٹی سانحہ کارساز کی 18ویں برسی کے موقع پر آج ہفتہ 18 اکتوبر کو ملک بھر میں دعائیہ تقریبات منعقد کرے گی۔ 180 شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی جائیں گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے زیر اہتمام صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت صوبے کے 26اضلاع میں دعائیہ تقریبات منعقد کرنے کے علاوہ شمعیں روشن کی جائیں گی۔ لاہور میں پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں آج شام خصوصی تقریب میں سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے بعد درجات کی بلندی کے لئے دعا، جنوبی پنجاب میں ڈویژن ضلع اور تحصیل سطح پر شہداء کی یاد میں تقریبات اور دعائیہ محافل کا انعقاد کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کے شہداء کو ان کی 18ویں یوم شہادت کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداء کے ناقابلِ شکست حوصلے، غیر متزلزل وفاداری اور پاکستان کے جمہور و جمہوریت کے لئے ان کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007ء کا دن قوم کی روح پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو چکا۔ یہ وہ دن تھا جب 30 لاکھ سے زائد لوگوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وطن واپسی پر تاریخی استقبال کیا اور 180 بہادر جیالوں نے جمہوری پاکستان کے خواب کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ آمریت اور دہشت گردی نے گٹھ جوڑ کرکے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے کارواں پر ہولناک حملہ کیا۔اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج کراچی میں ہوگا جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی حتمی طور پر یہ فیصلہ کرے گی کہ اسے حکومت کی حمایت کو جاری رکھنا ہے یا اب اپوزیشن بینچز پر جانا ہے۔ دو تین ہفتوں میں صدر مملکت کے ساتھ ملاقاتوں، پیپلز پارٹی کی وفد کی وزیراعظم سے ملاقات اور بات چیت اور ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد پیپلز پارٹی کی اعلی ترین قیادت سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کو اعتماد میں لے گی اور ان سے رائے لی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سانحہ کارساز پیپلز پارٹی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔