شرجیل انعام میمن کا سانحہ کارساز کی اٹھارہویں برسی پر شہداء کو خراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ سانحہ کارساز اُن قوتوں کی ناکامی کی علامت ہے جو عوام کی آواز کو دبانا چاہتی تھیں، مگر پیپلز پارٹی نے اس کے بعد بھی آئین، جمہوریت اور عوامی حقِ حکمرانی کی جدوجہد جاری رکھی، جو آج بھی پارٹی کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سانحہ کارساز کی اٹھارہویں برسی کے موقع پر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 18 اکتوبر 2007ء پاکستان کی جمہوری تاریخ کا ایک سیاہ مگر لازوال باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس روز شہید محترمہ بینظیر بھٹو آٹھ سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں، تو ملک بھر سے لاکھوں جیالے ان کے استقبال کے لیے کراچی پہنچے تھے، دہشت گردوں نے قافلے پر حملہ کر کے درجنوں کارکنوں کو شہید کیا، مگر شہید بی بی نے اپنے عوام کا ساتھ نہ چھوڑا اور جمہوریت کی جدوجہد جاری رکھی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سینکڑوں جیالوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ جمہوریت کی راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز اُن قوتوں کی ناکامی کی علامت ہے جو عوام کی آواز کو دبانا چاہتی تھیں، مگر پیپلز پارٹی نے اس کے بعد بھی آئین، جمہوریت اور عوامی حقِ حکمرانی کی جدوجہد جاری رکھی، جو آج بھی پارٹی کی بنیاد ہے۔ سینئر وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے اور جمہوریت کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز کے شہداء قوم کے ہیرو ہیں، ان کی قربانیاں پاکستان کی جمہوری تاریخ کے سنہری باب کا حصہ ہیں اور ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سانحہ کارساز پیپلز پارٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔