بینظیر ہاری کارڈ پروگرام کے تحت 55.9 ارب روپے کسانوں پر خرچ کیے جائیں گے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
ایک بیان میں سینئر صوبائی وزیر سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت گندم کی کاشت کے لیے کسانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے، گندم کی پیداوار میں اضافہ ملک میں خوشحالی اور خود کفالت کا باعث بنے گا۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے گندم کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے بینظیر ہاری کارڈ پروگرام کے تحت 55.
انہوں نے کہا کہ بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے گی اور ڈیجیٹل نظام سے زمین کی جانچ پڑتال بھی ہوگی، ویٹ گروورز پروگرام کے تحت ایسے کسانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جن کے پاس ایک سے پچیس ایکڑ زمین ہے، گندم کی کاشت کے لیے کسانوں کو ایک بوری ڈی اے پی اور دو بوریاں یوریا کھاد فراہم کی جا رہی ہیں۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت گندم کی کاشت کے لیے کسانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے، گندم کی پیداوار میں اضافہ ملک میں خوشحالی اور خود کفالت کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے اس فیصلے سے چھوٹے کسانوں کو مؤثر انداز میں مدد ملے گی، اس اقدام کا مقصد صرف مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ کسانوں کو باعزت طریقے سے خود کفیل بنانا ہے، آئندہ مرحلے میں سندھ حکومت مزید لاکھوں کسانوں کو بینظیر ہاری کارڈ فراہم کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ کاشتکار اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بینظیر ہاری کارڈ گندم کی کاشت سندھ حکومت کسانوں کو نے کہا کہ کے لیے رہی ہے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔