سندھ میں ماڑی انرجیز کی بڑی کامیابی، تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
کراچی: معروف کمپنی ماڑی انرجیز لمیٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ سندھ میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کر لیے گئے ہیں۔
کمپنی کے مطابق یہ کامیابی ماڑی غزیج ایکسپلوریشن ویل سے حاصل ہوئی، جہاں ٹیسٹنگ کے دوران روزانہ تقریباً 305 بیرل خام تیل اور 3 ایم ایم ایس سی ایف ڈی قدرتی گیس حاصل ہوئی۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین اس دریافت کو پاکستان کے موجودہ معاشی اور توانائی بحران کے تناظر میں نہایت اہم قرار دے رہے ہیں۔
ماڑی انرجیز کے منیجنگ ڈائریکٹر فہیم حیدر کے مطابق یہ کامیابی کمپنی کے ماہر سائنسدانوں اور انجینئرز کی محنت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے ملک میں کم ہوتی گیس کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے مسلسل تحقیق اور عملی اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی کا بنیادی ہدف توانائی کی خودکفالت ہے تاکہ ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا پڑے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فہیم حیدر نے مزید بتایا کہ ماڑی انرجیز اس وقت ڈھرکی میں واقع ماڑی گیس فیلڈ چلا رہی ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی اس وقت ملکی سطح پر تقریباً 30 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ سب سے بڑی قدرتی گیس پیدا کرنے والی کمپنی ہے۔
توانائی سے وابستہ شعبوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس دریافت کو بروقت پیداوار میں بدلا گیا تو یہ ملکی معیشت کے لیے ایک نئی امید ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش جاری ہے اور ماڑی انرجیز کی یہ پیش رفت اس شعبے میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ماڑی انرجیز
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔