سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251018-06-7
کراچی(بزنس رپورٹر)ماری انرجیز لمیٹڈ (ماری) نے جمعہ کو سندھ میں واقع ماری غازج سی ایف- بی ون کنویں سے تیل و گیس کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔کمپنی نے یہ پیش رفت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمعہ کے روز بھیجے گئے ایک نوٹس میں ظاہر کی۔نوٹس کے مطابق ماری غازج سی ایف- بی ون کنواں 12 ستمبر 2025 کو کھودنا شروع کیا گیا اور کامیابی کے ساتھ 1,195 میٹر کی گہرائی تک ایس یو ایل (SUL) فارمیشن میں پہنچا۔کمپنی نے بتایا کہ یہ کنواں غازج فارمیشن کے اْن زونز کو ہدف بنا کر کھودا گیا جو تیل کی پیداوار کے لیے موزوں ہیں۔ٹیسٹنگ کے دوران کنویں سے روزانہ 305 بیرل تیل اور 3 ایم ایم ایس سی ایف ڈی (MMSCFD) گیس حاصل ہوئی جبکہ ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر (WHFP) 225 پاؤنڈ فی مربع انچ (Psi) اور چوک سائز 48/64 انچ رکھا گیا۔ماری انرجیز لمیٹڈ جو ملک کے سب سے بڑے گیس ذخیرے ماری گیس فیلڈ (ڈہرکی، سندھ) کو آپریٹ کرتی ہے، پاکستان میں قدرتی گیس کی دوسری سب سے بڑی پیداوار کنندہ کمپنی ہے۔یہ کمپنی ایک مربوط تیل و گیس تلاش و پیداوار ادارہ ہے، جس کی ایکسپلوریشن کامیابی کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے جو قومی سطح پر 33 فیصد اور بین الاقوامی سطح پر 14 فیصد کے اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ماری انرجیز کے بڑے صارفین میں کھاد ساز کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے، گیس تقسیم کار کمپنیاں اور ریفائنریز شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔