اسرائیل کے دورے سے واپسی پر پاک افغان جنگ معاملے کو دیکھوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
ائیر فورس ون میں امریکا سے اسرائیل جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ابھی سننے کو ملا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی جنگ ہو رہی ہے۔ مجھے اس معاملے کو واپس آکر دیکھنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ممکنہ جنگ کی اطلاعات سنی ہیں، جسے وہ اسرائیل سے امریکا واپسی پر اس معاملے کو غور سے دیکھیں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ماضی میں کئی جنگیں روک چکے ہیں اور اس بار بھی ایک اور کوشش کریں گے۔ ائیر فورس ون میں امریکا سے اسرائیل جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ابھی سننے کو ملا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی جنگ ہو رہی ہے۔ مجھے اس معاملے کو واپس آکر دیکھنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے خود کو جنگیں ختم کرنے کا ماہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی انہوں نے پیچیدہ عالمی تنازعات حل کیے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو ٹیرف کی حکمت عملی کے ذریعے روکا تھا، جس سے لاکھوں جانیں بچانے میں مدد ملی۔
ٹرمپ نے گفتگو کے دوران نوبل انعام کا بھی حوالہ دیا، ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ 2024ء میں میرا کام نمایاں تھا، مگر 2025ء میں بھی بہت سے بڑے عالمی اقدامات کیے، میرا مقصد انعام لینا نہیں بلکہ لوگوں کی جانیں بچانا ہے۔ غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اور مستقل جنگ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ غزہ کے لیے "بورڈ آف پیس" جلد قائم کیا جائے گا اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی مقررہ وقت سے پہلے ممکن ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان معاملے کو انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔