ائیر فورس ون میں امریکا سے اسرائیل جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ابھی سننے کو ملا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی جنگ ہو رہی ہے۔ مجھے اس معاملے کو واپس آکر دیکھنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ممکنہ جنگ کی اطلاعات سنی ہیں، جسے وہ اسرائیل سے امریکا واپسی پر اس معاملے کو غور سے دیکھیں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ماضی میں کئی جنگیں روک چکے ہیں اور اس بار بھی ایک اور کوشش کریں گے۔ ائیر فورس ون میں امریکا سے اسرائیل جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ابھی سننے کو ملا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی جنگ ہو رہی ہے۔ مجھے اس معاملے کو واپس آکر دیکھنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے خود کو جنگیں ختم کرنے کا ماہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی انہوں نے پیچیدہ عالمی تنازعات حل کیے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو ٹیرف کی حکمت عملی کے ذریعے روکا تھا، جس سے لاکھوں جانیں بچانے میں مدد ملی۔

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران نوبل انعام کا بھی حوالہ دیا، ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ 2024ء میں میرا کام نمایاں تھا، مگر 2025ء میں بھی بہت سے بڑے عالمی اقدامات کیے، میرا مقصد انعام لینا نہیں بلکہ لوگوں کی جانیں بچانا ہے۔ غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اور مستقل جنگ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ غزہ کے لیے "بورڈ آف پیس" جلد قائم کیا جائے گا اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی مقررہ وقت سے پہلے ممکن ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان معاملے کو انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی