Daily Mumtaz:
2026-07-24@06:06:57 GMT

کے-الیکٹرک کی ملکیت سے متعلق اہم انکشافات

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

کے-الیکٹرک کی ملکیت سے متعلق اہم انکشافات

کے-الیکٹرک کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول سے متعلق اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں، جنہوں نے کمپنی کے مستقبل اور اس کے معاملات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ تفصیلات ایک مکتوب کے ذریعے سامنے آئیں، جو کے-الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن شان اشعری کی جانب سے تحریر کیا گیا اور کمپنی سیکریٹری نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کیا۔ اس مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ کے-الیکٹرک کی اصل ملکیت **KESP (کیس پاور) کے پاس ہے، جس میں شہریار چشتی کی براہِ راست کوئی سرمایہ کاری موجود نہیں۔
مکتوب کے مطابق کیس پاور میں الجمومیہ گروپ، دینہم انویسٹمنٹ اور ایس پی وی 21 (SPV-21) سرمایہ کار کے طور پر شامل ہیں۔ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ SPV-21 کی نمائندگی کیسی میکڈونلڈ نامی فرد کرتے ہیں، اور قانونی طور پر وہی کمپنی کے حصص کی فروخت کے مجاز ہیں۔
دستاویزات میں ایک اہم الزام بھی سامنے آیا ہے کہ شہریار چشتی نے SPV-21 کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، دیگر سرمایہ کاروں یعنی الجمومیہ اور دینہم انویسٹمنٹ کی رضامندی کے بغیر، کمپنی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو سرمایہ کار گروپس نے شہریار چشتی کے خلاف کیمن آئی لینڈ کی گرینڈ کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس پر سماعت جاری ہے۔
مکتوب میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شہریار چشتی کے پاس KESP میں حصص کی فروخت یا کسی بھی قسم کا کنٹرول حاصل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے بھی اس مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ SPV-21 پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوئی بھی کوشش شیئر ہولڈنگ معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گی۔
یہ انکشافات نہ صرف کے-الیکٹرک کی ملکیت سے متعلق ابہام کو دور کرنے کی کوشش ہیں بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ کمپنی کے اندرونی معاملات کس حد تک پیچیدہ اور قانونی تنازعات سے جُڑے ہوئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے الیکٹرک کی شہریار چشتی

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی