جعلی اے آئی ویڈیوز کا معاملہ، ابھیشیک اور ایشوریا کے بعد اکشے کمار بھی عدالت پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کے مشہور اداکار اکشے کمار نے اپنی شخصیت، آواز اور تصویر کے غیر قانونی استعمال کے خلاف ممبئی ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ اے آئی جنریٹڈ ڈیپ فیک مواد کی بڑھتی ہوئے غلط استعمال کے تناظر میں دائر کیا گیا ہے، جو نہ صرف اداکار کی شہرت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی سنگین نتائج کا باعث بنتا ہے۔
اکشے کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ بیرندرا سراف نے بتایا کہ ایسے مواد سوشل میڈیا پر اتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں کہ ہر مواد کو فوری طور پر ٹریک کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقصان ہونے سے پہلے وضاحت جاری کرنا مشکل ہوتا ہے، جو عوام کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ جو لوگ یہ غیر قانونی مواد بنا رہے ہیں وہ اداکاروں کے نام پر کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔
وکیل نے مخصوص واقعات کا حوالہ دیا، جن میں مارچ 2025 میں ایک جعلی فلم ٹریلر شامل ہے جس میں اکشے کو اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔ یہ ٹریلر ہٹائے جانے سے قبل 20 لاکھ سے زائد ویوز حاصل کر چکا تھا۔
ایک اور ویڈیو میں اکشے کو مہارشی والمیکی سے متعلق متنازع بیانات کرتے دکھایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں احتجاج شروع ہو گئے جبکہ وہ ایک ڈیپ فیک ویڈیو تھی۔ اے آئی پلیٹ فارمز پر ’اے آئی اکشے کمار وی ٹو وائس‘جیسے ٹولز دستیاب ہیں جو کسی بھی ٹیکسٹ سے اداکار کی اصلی آواز میں تقریر تیار کر سکتے ہیں۔
مقدمہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس اور نامعلوم افراد کے خلاف عائد کیا گیا ہے تاکہ اکشے کمار کا نام تصویر، آواز اور اسٹائل کے غلط استعمال کو روکا جاسکے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ابھیشیک بچن، ایشوریا رائے بچن، امیتابھ بچن، ہرتیک روشن، کرن جوہر، آشا بھوسلے، سنیل شیٹی اور دیگر شخصیات نے بھی ڈیپ فیک مواد کے خلاف عدالتی تحفظ حاصل کر لیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔