اسلام آباد میں روٹی، نان کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے ڈی سی کو پیر تک نان بائی ایسوسی ایشن سے ملاقات کرکے قیمتوں کا معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی۔ 

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی جس میں صدر نان بائی ایسوسی ایشن سجاد عباسی و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

۔ جج کا کہنا تھا کہ روٹی کی قیمت کا پیر تک معاملہ حل نہ ہوا تو ڈپٹی کمشنر کو پیر کو بلائیں گے۔

عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو نانبائیوں کو ہراساں کرنے سے روکنے کے حکم میں توسیع بھی کی جبکہ عدالت نے انتظامیہ کی جانب سے حراست میں لیے گئے دو  نانبائیوں کو فوری رہا کرنے کا بھی حکم دیا۔

وکیل عمر اعجاز گیلانی کا کہنا تھا کہ ہمارے دو لوگوں کو انتظامیہ نے گرفتار کر لیا اور تھانے میں بند کردیا ہے جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر کا کہنا تھا کہ دیکھ لینا کہیں انھیں قتل کیس میں نہ ڈال دیا ہو۔

وکیل نے کہا کہ نہیں قتل کیس میں تو نہیں ڈالا ، عدالت انکی رہائی کے احکامات دے۔ ہماری ڈپٹی کمشنر سے ملاقات نہیں ہوئی بلکہ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ سے ہوئی۔ 

جج نے درخواست گزار وکیل کو کہا کہ ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کو کہیں پیر تک ملاقات کرکے معاملہ حل کریں ورنہ اُنھیں طلب کرینگے۔ عدالت نے ہدایت کے ساتھ سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عدالت نے پیر تک

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ