اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ کو روٹی کی قیمتوں کا معاملہ جلد حل کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
اسلام آباد میں روٹی، نان کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے ڈی سی کو پیر تک نان بائی ایسوسی ایشن سے ملاقات کرکے قیمتوں کا معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی جس میں صدر نان بائی ایسوسی ایشن سجاد عباسی و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
۔ جج کا کہنا تھا کہ روٹی کی قیمت کا پیر تک معاملہ حل نہ ہوا تو ڈپٹی کمشنر کو پیر کو بلائیں گے۔
عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو نانبائیوں کو ہراساں کرنے سے روکنے کے حکم میں توسیع بھی کی جبکہ عدالت نے انتظامیہ کی جانب سے حراست میں لیے گئے دو نانبائیوں کو فوری رہا کرنے کا بھی حکم دیا۔
وکیل عمر اعجاز گیلانی کا کہنا تھا کہ ہمارے دو لوگوں کو انتظامیہ نے گرفتار کر لیا اور تھانے میں بند کردیا ہے جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر کا کہنا تھا کہ دیکھ لینا کہیں انھیں قتل کیس میں نہ ڈال دیا ہو۔
وکیل نے کہا کہ نہیں قتل کیس میں تو نہیں ڈالا ، عدالت انکی رہائی کے احکامات دے۔ ہماری ڈپٹی کمشنر سے ملاقات نہیں ہوئی بلکہ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ سے ہوئی۔
جج نے درخواست گزار وکیل کو کہا کہ ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کو کہیں پیر تک ملاقات کرکے معاملہ حل کریں ورنہ اُنھیں طلب کرینگے۔ عدالت نے ہدایت کے ساتھ سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔