سہراب گوٹھ،افغان بستی میں آپریشن ،غیر قانونی مکانات و دکانیں مسمار
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
40 سال بعد ہیوی مشینری کی مدد سے 3ہزار سے زائد گھروں میں 26 ہزارافغان شہریوں کے گھروں کو توڑا گیا
رینجر اور پولیس کی نفری تعینات، زمین پر لینڈ مافیا قابض ہونے کیلئے تیار ہے، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ
( رپورٹ: افتخار چوہدری )کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کے قریب 40 سال پرانی افغان بستی کو مسمار کر دیا گیا۔اس افغان بستی میں 3 ہزار سے زائد گھروں میں 26 ہزار سے زائد افغان شہری رہائش پزیر تھے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سہراب کوٹھ کے قریب 40 سال سے زائد عرصہ سے قائم سب سے بڑی افغان بستی کو مسمار کرنے کے لیے گرینڈ آپریشن شروع کر دیا گیا ۔ہیوی مشینری کی مدد سے خالی اور خستہ حال گھروں اور دیواروں کو توڑا جا رہا ہے ۔کسی بھی ناخوشگوار واقع سینمٹنے کے لیے رینجر اور پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا ۔گزشتہ روز ڈی ائی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے کراچی پولیس چیف کو خط میں لکھا تھا کہ افغان بستی کی خالی ہونے والی زمین پر لینڈ مافیا قابض ہونے کے لیے تیار ہے لہذا ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی۔ ڈپٹی کمشنر اور پولیس افسران پر مشتمل ایک کمیٹی بنا کر زمین ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کی جائے ۔افغان بستی میں 3 ہزار سے زائد گھر بنے ہوئے ہیں جس میں 25 ہزار سے زائد افغان فیملیز رہائش پزیر تھی زیادہ تر افغان باشندے اپنے ملک افغانستان جا چکے ہیں۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے پورے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو اپنے وطن واپس جانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں ۔
.ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: افغان بستی
پڑھیں:
اقوام متحدہ: 2 سال میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں ہزار سے زائد فلسطینی شہید
اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ دو سال کے دوران اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کی کارروائیوں میں 1,030 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 233 بچے بھی شامل ہیں۔
جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران یواین انسانی حقوق کمشنر وولکر ترک کے ترجمان نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک مقبوضہ علاقوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا کوئی جوابدہ نہیں ہے۔ ترجمان نے جنین میں اسرائیلی بارڈر پولیس کے ہاتھوں دو فلسطینیوں کے سرعام قتل پر گہرے صدمے کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے طاقت کے غیر قانونی استعمال اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے لیے استثنیٰ ختم ہونا چاہیے، اور فلسطینیوں کے قتل کی آزادانہ، فوری اور مؤثر تحقیقات ہونی چاہئیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (OCHA) کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد بلا روک ٹوک جاری ہے، روزانہ بنیاد پر جانی نقصان، املاک کے نقصان اور بے دخلی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک اسرائیلی آبادکاروں کے 1,600 سے زائد حملوں میں فلسطینی شدید جانی اور مالی نقصان کا شکار ہوئے۔ ان میں 1,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر جسمانی تشدد، پتھراؤ یا آنسو گیس کے اثرات سے متاثر ہوئے۔
تقریباً 700 فلسطینی براہِ راست اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں زخمی ہوئے، جب کہ باقی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں زخمی ہوئے۔ یہ تعداد 2024 میں آبادکاروں کے حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی نسبت تقریباً دوگنی ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں تاکہ عام فلسطینیوں کی زندگیوں اور بنیادی حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔