Juraat:
2026-06-03@01:56:13 GMT

معیشت کی ترقی کے باوجود مہنگائی میں مسلسل اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

معیشت کی ترقی کے باوجود مہنگائی میں مسلسل اضافہ

پروفیسر شاداب احمد صدیقی
پاکستان کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ روزانہ اخبارات میں مختلف عالمی اور ملکی اداروں کے سروے شائع ہوتے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ پاکستان خطے کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے ، اور کچھ رپورٹس میں تو اسے بہتری کی رفتار کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر قرار دیا گیا ہے ۔موقر امریکی جریدے بلوم برگ نے کہا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جس کے دیوالیہ ہونے کے خدشات میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے اور پاکستان کی کارکردگی دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں دوسرے نمبر پر ہے ۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( اے پی پی ) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوم برگ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے دیوالیہ ہونے کے خدشات میں سب سے بڑی کمی دکھائی ہے ۔بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی کارکردگی دنیا بھر کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں دوسرے نمبر پر رہی ہے ،صرف ترکیہ پاکستان سے آگے ہے ۔حکومت کے نمائندے ، وزراء اور ترجمان ان اعدادوشمار کو فخریہ بیان کرتے نہیں تھکتے ۔ لیکن جب یہی خوش کن دعوے ایک عام شہری کی زندگی سے جوڑ کر دیکھے جائیں تو ایک تلخ تضاد سامنے آتا ہے ۔ ترقی کے یہ اعدادوشمار عوام کے خالی برتنوں میں کیوں نہیں جھلکتے ؟ کیا معیشت کی بہتری کا مطلب صرف سرکاری رپورٹوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے اشارے ہیں، یا پھر اس کا عکس عوام کی روزمرہ زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے ؟
حقیقت یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی نے ہر سمت سے عوام کو جکڑ رکھا ہے ۔ حکومت کے بقول افراطِ زر کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے ، مگر بازار کی گواہی کچھ اور ہے ۔ آٹا جو بنیادی ضرورت ہے ، اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔آٹا کے ساتھ ساتھ دیگر اشیائے ضروریہ جیسے سبزیاں، دالیں، چاول، چینی اور گھی بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ مرغی، انڈے اور دودھ کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں، اور عام شہری کے لیے اپنے محدود بجٹ میں گھر کا خرچ چلانا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ جان بچانے والی ادویات، جو کبھی متوسط طبقے کی پہنچ میں تھیں، اب لگژری بن چکی ہیں۔ اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولتیں کم ہو رہی ہیں، اور نجی ہسپتال عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے میں آزاد ہیں۔ ایسے میں عام آدمی کی زندگی مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن گئی ہے ۔مہنگائی کا جن واقعی قابو سے باہر ہو چکا ہے ۔ حکمرانوں کے بیانات میں اگرچہ تسلی کے الفاظ ہیں، مگر عملی طور پر صورتِ حال روز بروز بگڑ رہی ہے ۔ روپے کی قدر میں کمی، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ، اور اندرونی بدانتظامی نے معیشت کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ حکومت عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدے کرتی ہے ، سبسڈی ختم کرتی ہے ، اور محصولات بڑھاتی ہے ۔ نتیجتاً عوام سے ہر سطح پر مزید قربانیاں مانگی جاتی ہیں۔ ٹیکس دینے والے طبقے پر دباؤ بڑھتا ہے ، جب کہ امیر طبقہ بدستور مراعات کا فائدہ اٹھاتا ہے ۔ اس طبقاتی تفریق نے پاکستان میں معاشی عدم توازن کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے ۔اگر معیشت واقعی ترقی کر رہی ہے تو اس ترقی کا فائدہ کہاں جا رہا ہے ؟ یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں ابھر رہا ہے ۔ ترقی کے دعوے اُس وقت حقیقی معنوں میں معتبر ہوتے ہیں جب ان کے اثرات عام آدمی تک پہنچیں۔ لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ سرکاری اعدادوشمار خوش کن ہیں مگر عوام کے اعداد و شمار خوفناک غربت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ، بیروزگاری بڑھ رہی ہے ، متوسط طبقہ سکڑ کر نچلے طبقے میں شامل ہو رہا ہے ۔ دوسری طرف اشرافیہ کے محلات اور بینک اکاؤنٹس پھل پھول رہے ہیں۔ یہ منظرنامہ کسی بھی ترقی یافتہ معیشت کا نہیں بلکہ غیر متوازن نظام کا عکاس ہے ۔اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی بنیادی وجوہات صرف بیرونی قرضے یا درآمدی مہنگائی نہیں بلکہ داخلی بدانتظامی، ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور غیر مؤثر پالیسی سازی بھی ہیں۔ جب اشیائے خورونوش کا ذخیرہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے تو مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے ، اور قیمتیں بڑھا کر عوام سے ناجائز منافع کمایا جاتا ہے ۔ اس عمل میں کئی بااثر افراد شامل ہوتے ہیں جنہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہوتی ہے ۔ نتیجتاً عام صارف کے لیے بازار میں اشیاء نہ صرف مہنگی ہو جاتی ہیں بلکہ معیار میں بھی کمی آ جاتی ہے ۔حکومت اگر واقعی معیشت کو بہتر بنانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اسے عوامی معیشت کو مستحکم بنانا ہوگا۔ اعدادوشمار کی ترقی سے پیٹ نہیں بھرتے ۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایک مزدور، ایک استاد، ایک سرکاری ملازم یا ایک چھوٹے دکاندار کی قوتِ خرید کم ہو چکی ہے ۔ ان کی آمدنی وہی ہے لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ بجلی کے بل، گیس کے نرخ، ٹرانسپورٹ کے کرائے ، تعلیمی اخراجات اور علاج کے بل سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے ۔ ایسے میں ترقی کا نعرہ عوام کے لیے طنز بن جاتا ہے ۔پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے ، حکومت کو مہنگائی کے اصل اسباب کا تعین کرکے مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ، چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔ دوسرا، زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کو سستی کھاد، معیاری بیج اور بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ خوراک کی قلت نہ پیدا ہو۔ تیسرا، درآمدات پر انحصار کم کرکے مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جائے تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں اور زرِ مبادلہ کا ضیاع کم ہو۔اس کے علاوہ، حکومت کو سماجی تحفظ کے پروگراموں کو وسعت دینی چاہیے تاکہ کم آمدنی والے خاندانوں کو مہنگائی کے بوجھ سے وقتی سہارا مل سکے ۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں عوامی سرمایہ کاری بڑھانے سے انسانی ترقی کے اشاریے بہتر ہوں گے ، جو کسی بھی مضبوط معیشت کی بنیاد ہیں۔ صرف ترقی کے اعدادوشمار دکھا کر حقیقت نہیں بدلی جا سکتی، اس کے لیے انصاف، شفافیت اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔پاکستان کی معیشت بلاشبہ ایک نازک موڑ پر ہے ۔ اگر اس موقع پر سنجیدہ اور عوام دوست پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو یہ بظاہر ترقی کرتی معیشت عوام کی زندگیوں کو مزید تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے ۔ معیشت کی اصل ترقی وہی ہے جو روٹی، روزگار، تعلیم اور علاج میں آسانی پیدا کرے ورنہ یہ ترقی محض الفاظ کا کھیل ہے ، حقیقت نہیں۔
اشیائے خورونوش کے نرخوں میں استحکام کے لیے مؤثر پرائس کنٹرول نظام نافذ کیا جائے ۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف غیر جانبدار مہم چلائی جائے ۔کم آمدنی والے طبقے کے لیے سبسڈی اور ریلیف پیکیج فوری طور پر بحال کیے جائیں۔ زرعی شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ خوراک کی قیمتیں قابو میں رہیں۔عوامی فلاحی منصوبوں میں شفافیت لائی جائے اور ترقی کے ثمرات نچلے طبقے تک پہنچائے جائیں۔یہی وہ اقدامات ہیں جو پاکستان کی معیشت کو محض اعدادوشمار کی ترقی سے نکال کر حقیقی خوشحالی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پاکستان کی معیشت کی معیشت کو کی معیشت عوام کی ترقی کے رہا ہے کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان