data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کی رفتار کم ہونے کے بجائے ایک بار پھر تیز ہونے لگی ہے، کئی ضروریات اشیا مہنگی ہوگئیں ہیں، عوام کا جینا محال ہوگیا ہے۔

 وفاقی ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق مسلسل تیسرے ہفتے بھی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ صرف ایک ہفتے میں 24 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی مجموعی رفتار میں 0.

49 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ شرح بڑھ کر 4.57 فیصد تک جا پہنچی ہے، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عام صارفین کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آلو، انڈے، آٹا، گھی، پیاز، لہسن، ٹماٹر، اور واشنگ سوپ سمیت 24 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ آلو 0.71 فیصد، انڈے 2.81 فیصد، آٹا 1.42 فیصد، پیاز 8.70 فیصد، لہسن 0.85 فیصد، ویجیٹیبل گھی 0.63 فیصد اور ٹماٹر کی قیمتوں میں حیران کن طور پر 33.20 فیصد اضافہ ہوا۔

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق کم آمدنی والے طبقے پر مہنگائی کا اثر سب سے زیادہ پڑا ہے۔

ماہانہ 17 ہزار 732 روپے تک آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے مہنگائی کی شرح 1.07 فیصد اضافے کے ساتھ 4.98 فیصد تک جا پہنچی۔

اسی طرح 17 ہزار 733 سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی رفتار 0.92 فیصد کمی کے باوجود 4.98 فیصد رہی جبکہ 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی میں 0.71 فیصد کمی کے ساتھ 5.57 فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔

عوام کاکہنا ہے کہ  اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتیں اشیائے درآمدی لاگت، ایندھن کے اثرات اور مقامی سپلائی چین کے مسائل کا نتیجہ ہیں،  اگر حکومت نے قلیل المدتی ریلیف اقدامات نہ کیے تو آئندہ ہفتوں میں مجموعی افراطِ زر کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

عوام نے مطالبہ کیا کہ حکومت دعوے کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرکے ضروریات اشیا کی چیزوں پر قیمتوں میں کمی کریں تاکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ سکون کی زندگی گزار سکیں اور غریب اپنے گھر کا چولہا جلاسکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔

حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ