ستمبر کے اختتام تک آٹو لونز کا حجم بڑھ کر 305 ارب روپے تک پہنچ گیا جو اگست میں 294 ارب روپے تھا۔ یوں آٹو فنانسنگ میں مسلسل 10ویں ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آٹو فنانسنگ میں 20 فیصد کی لمبی چھلانگ،اسٹیٹ بینک نے ڈیٹا جاری کردیا

ڈان میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اگرچہ آٹو فنانسنگ میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم یہ اب بھی جون 2022 میں ریکارڈ کیے گئے 368 ارب روپے کی بلند ترین سطح سے کم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ جس کا اندازہ نیم اور مکمل طور پر ناک آؤٹ کٹس کی درآمدات سے ہوتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ رجحان کو برقرار رھ سکتا ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مذکورہ کٹس کی درآمدات 114 فیصد کے اضافے کے ساتھ 458 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال اسی مدت میں 231.

4 ملین ڈالر تھیں۔

پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے ریسرچ ہیڈ سمیع اللہ طارق نے آٹو فنانسنگ میں اضافے کو قوت خرید میں بہتری اور نئی گاڑیوں کے ماڈلز کی لانچنگ سے جوڑا ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل کے مطابق آٹو لیزنگ اب زیادہ پرکشش ہو گئی ہے کیونکہ کچھ معاملات میں شرح سود 10 فیصد سے بھی کم ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیے: گاڑیوں کی فروخت میں رواں برس اب تک 18 فیصد کا اضافہ؛ وجہ کیا ہے؟

مالی پالیسی کی شرح میں جون میں 22 فیصد سے کمی کرکے 11 فیصد کیے جانے نے بھی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ کیا ہے اگرچہ یکم جولائی 2025 سے نافذ کی گئی نیو انرجی وہیکل پالیسی کے باعث گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تاہم کچھ بنیادی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔ گاڑیوں پر آٹو لون کے لیے 3 ملین روپے کی موجودہ حد اعلیٰ قیمت والی گاڑیوں کے لیے فنانسنگ کو محدود کرتی ہے۔

کچھ تجزیہ کار اس حد کو 6 ملین روپے تک بڑھانے کی تجویز دے رہے ہیں لیکن اسٹیٹ بینک محتاط ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ بڑھتی ہوئی طلب غیرملکی زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ، 15 افسران کے تبادلے

دیگر ضوابط جیسے کہ 30 فیصد ایڈوانس ادائیگی کی شرط اور مختصر قرض کی مدت — 1000cc  تک کی گاڑیوں کے لیے 5 سال اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے 3 سال بھی ممکنہ خریداروں کے لیے رکاوٹ بن رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹو فنانسنگ آٹو لون آٹو لون کا کل حجم اسٹیٹ بینک آف پاکستان پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ٹو فنانسنگ ا ٹو لون اسٹیٹ بینک ا ف پاکستان آٹو فنانسنگ میں اسٹیٹ بینک گاڑیوں کی گاڑیوں کے ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ

اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔

جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔

اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ