data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (آن لائن) بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں غیربینکاری ذرائع سے خریدی گئی جائیدادوں پر جرمانے عائد نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریونیو اسٹاف کی ناقص حکمت عملی اور قانون پر عملدرآمد میں کوتاہی کے باعث قومی خزانے کو تقریباً 2 ارب 92 کروڑ 85 لاکھ 90 ہزار روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ آف ریونیو 4700 کیسز میں ایسی جائیدادوں پر جرمانے عاید نہیں کر سکا جن کی خرید و فروخت بینکاری ذرائع کے بغیر کی گئی تھی، حالانکہ قانون کے مطابق 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد صرف بینکنگ چینل کے ذریعے خریدی جا سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر بینکاری ذرائع سے جائیداد کی خرید و فروخت قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس پر جرمانہ عاید نہ کرنا نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنا بلکہ بعض نجی افراد کو ناجائز فائدہ بھی پہنچایا گیا۔ یہ تمام کیسز ریونیو عملے کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان خلاف ورزیوں پر بروقت ایکشن لیا جاتا تو یہ خطیر رقم قومی خزانے میں شامل ہو سکتی تھی۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی