ریونیو بورڈ کی کارکردگی پر سنگین سوالات، اربوں روپے نقصان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (آن لائن) بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں غیربینکاری ذرائع سے خریدی گئی جائیدادوں پر جرمانے عائد نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریونیو اسٹاف کی ناقص حکمت عملی اور قانون پر عملدرآمد میں کوتاہی کے باعث قومی خزانے کو تقریباً 2 ارب 92 کروڑ 85 لاکھ 90 ہزار روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ آف ریونیو 4700 کیسز میں ایسی جائیدادوں پر جرمانے عاید نہیں کر سکا جن کی خرید و فروخت بینکاری ذرائع کے بغیر کی گئی تھی، حالانکہ قانون کے مطابق 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد صرف بینکنگ چینل کے ذریعے خریدی جا سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر بینکاری ذرائع سے جائیداد کی خرید و فروخت قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس پر جرمانہ عاید نہ کرنا نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنا بلکہ بعض نجی افراد کو ناجائز فائدہ بھی پہنچایا گیا۔ یہ تمام کیسز ریونیو عملے کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان خلاف ورزیوں پر بروقت ایکشن لیا جاتا تو یہ خطیر رقم قومی خزانے میں شامل ہو سکتی تھی۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
الاسکا میں 6.0 شدت کا زلزلہ، اینکریج چند سیکنڈ میں لرز اُٹھا
امریکا کی ریاست الاسکا میں 6.0 شدت کے زلزلے نے اینکریج شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو اچانک ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ سسٹینا کے علاقے میں تقریباً 69 کلومیٹر گہرائی میں آیا، جبکہ مرکز اینکریج سے تقریباً 12 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع تھا۔
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجکر 11 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد شہری خوف کے باعث گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ الاسکا ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ نے ہائی ویز، پلوں، سرنگوں اور ایئرپورٹس کی ہنگامی جانچ شروع کر دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کی فوری شناخت کی جا سکے۔
حکام کے مطابق اب تک کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، اور سفر میں رکاوٹوں کا امکان بھی کم ہے۔ امریکی نیشنل سونامی وارننگ سینٹر نے ابتدائی معلومات کی بنیاد پر واضح کیا ہے کہ سونامی کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔
یاد رہے کہ الاسکا کی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ 27 مارچ 1964 کو آیا تھا، جب 9.2 شدت کے زلزلے اور سونامی نے 131 افراد کی جان لے لی تھی۔ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور آفٹر شاکس کے امکانات کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔