لاہور سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اسرائیل اپنی توانائیاں کھو چکا ہے، جبکہ امریکہ اسکی ناکامیوں کو امن منصوبے کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے تحت عالمی طوفان الاقصیٰ کے موقع پر پورے ملک خصوصاً کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور، گلگت بلتستان سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں یکجہتی غزہ مارچ منعقد ہوئے، مرکزی ریلی کراچی میں نمائش چورنگی سے کیپری سینما تک نکالی گئی، جس کی قیادت تحریک بیداری امت کے مرکزی رہنماء آغا سعی حیدر نے کی۔ ریلی کے اختتام پر ایم اے جناح روڈ پر اجتماع ہوا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، باحجاب خواتین، نوجوانوں اور بچوں کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی، مرکزی خطاب تحریک بیداری امت مصطفیٰؐ پاکستان کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے لاہور سے براہ راست کیا۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ حماس، حزب اللہ اور انصار اللہ سمیت تمام اسلامی مزاحمتی قوتوں نے صبر کے میدان میں بلکہ فکری سطح پر بھی دشمن کو شکست دی، جس جنگ کو اسرائیل چند دنوں میں ختم کرنا چاہتا تھا، وہ ان مزاحمتی تحریکوں کی حکمت عملی کے باعث ایک طویل اور فیصلہ کن جنگ میں تبدیل ہوگئی۔

علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اس طویل عرصے میں دنیا نے اسرائیلی بربریت کا اصل چہرہ دیکھا اور آج بھی اسرائیل کے خلاف دنیا میں نفرت پھیل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی توانائیاں کھو چکا ہے، جبکہ امریکہ اسکی ناکامیوں کو امن منصوبے کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، ترکیہ قطر، سعودیہ عرب اور پاکستان جیسے ممالک نئے محاذ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ فلسطینی مزاحمت کو روکا جا سکے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اس واضح کامیابی کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اب امریکا اور اس کے اتحادی جنگ کے بجائے خیانت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ خیانت ہمیشہ امتوں کو گرا دیتی ہے، آج بھی اسلامی مزاحمتی تحریکیں اپنی قربانیوں کی وجہ سے پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحریک بیداری امت

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا