کراچی، تحریک بیداری امت کے تحت عالمی یومِ طوفانِ الاقصیٰ پر یکجہتی غزہ مارچ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
لاہور سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اسرائیل اپنی توانائیاں کھو چکا ہے، جبکہ امریکہ اسکی ناکامیوں کو امن منصوبے کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے تحت عالمی طوفان الاقصیٰ کے موقع پر پورے ملک خصوصاً کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور، گلگت بلتستان سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں یکجہتی غزہ مارچ منعقد ہوئے، مرکزی ریلی کراچی میں نمائش چورنگی سے کیپری سینما تک نکالی گئی، جس کی قیادت تحریک بیداری امت کے مرکزی رہنماء آغا سعی حیدر نے کی۔ ریلی کے اختتام پر ایم اے جناح روڈ پر اجتماع ہوا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، باحجاب خواتین، نوجوانوں اور بچوں کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی، مرکزی خطاب تحریک بیداری امت مصطفیٰؐ پاکستان کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے لاہور سے براہ راست کیا۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ حماس، حزب اللہ اور انصار اللہ سمیت تمام اسلامی مزاحمتی قوتوں نے صبر کے میدان میں بلکہ فکری سطح پر بھی دشمن کو شکست دی، جس جنگ کو اسرائیل چند دنوں میں ختم کرنا چاہتا تھا، وہ ان مزاحمتی تحریکوں کی حکمت عملی کے باعث ایک طویل اور فیصلہ کن جنگ میں تبدیل ہوگئی۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اس طویل عرصے میں دنیا نے اسرائیلی بربریت کا اصل چہرہ دیکھا اور آج بھی اسرائیل کے خلاف دنیا میں نفرت پھیل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی توانائیاں کھو چکا ہے، جبکہ امریکہ اسکی ناکامیوں کو امن منصوبے کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، ترکیہ قطر، سعودیہ عرب اور پاکستان جیسے ممالک نئے محاذ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ فلسطینی مزاحمت کو روکا جا سکے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ اس واضح کامیابی کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اب امریکا اور اس کے اتحادی جنگ کے بجائے خیانت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ خیانت ہمیشہ امتوں کو گرا دیتی ہے، آج بھی اسلامی مزاحمتی تحریکیں اپنی قربانیوں کی وجہ سے پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک بیداری امت
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔