ایتھلیٹکس فیڈریشن پاکستان نے ارشدندیم کےکوچ سلمان اقبال بٹ پرتاحیات پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان نے انفرادی مقابلوں میں پاکستان کے پہلے اولپمک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کےکوچ سلمان اقبال بٹ پر تاحیات پابندی لگادی۔2021 سے اولپمک گولڈ میڈلسٹ ارشدندیم کے کوچنگ کے فرائض انجام دینے والے سلمان بٹ اور ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان کے درمیان کچھ عرصے سے اختلافات تھے۔چند ہفتے قبل فیڈریشن نے ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ارشد ندیم کی مایوس کن پرفارمنس پر سلمان اقبال بٹ سے جواب طلبی کی تھی جس کا سلمان اقبال بٹ نے تین روز قبل مفصل جواب جمع کرایا۔ جس کے بعد ایتھلیٹکس فیڈریشن نے پنجاب ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے آئین کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر ان پر تاحیات پابندی عائد کر دی۔ایتھلیٹکس فیڈریشن کے مطابق سلمان اقبال بٹ اور سید حبیب شاہ نے پنجاب ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے غیر آئینی اور غیر قانونی انتخابات کروائے تھے جس کی پاداش میں سلمان بٹ پر تاحیات جب کہ حبیب شاہ پر 10 سال کی پابندی لگائی، معاملے پر فیڈریشن نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں سلمان بٹ اور حبیب شاہ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوئے۔سلمان اقبال بٹ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہےکہ سلمان بٹ پر پابندی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا، نوٹیفکیشن ملنے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈریشن نے ذاتی اختلافات اور میرٹ سے ہٹ کر فیصلہ کیا ہے، جواب طلبی پر دیے جانے والے تفصیلی جواب کا بھی ردعمل ہوسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایتھلیٹکس فیڈریشن سلمان اقبال بٹ فیڈریشن نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔