’زو بند کردیے جائیں، جانوروں کو کھلے ماحول میں رکھا جائے‘، سندھ ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ میں کراچی چڑیا گھر کی مادہ ریچھ ’رانو‘ کو قدرتی ماحول میں منتقل کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا 21ویں صدی میں جانوروں کو بھی پنجروں میں قید رکھا جاسکتا ہے؟
جسٹس کلہوڑو کے ریمارکس
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ جب میں چھوٹا تھا تو چڑیا گھر جاتا تھا، اس وقت سارے جانور زخمی ہوتے تھے۔ جانوروں کو چھوٹے چھوٹے پنجروں میں بند رکھنے کا کیا مطلب ہے؟
یہ بھی پڑھیں:کراچی چڑیا گھر میں مادہ بنگال ٹائیگر کی ہلاکت کیسے ہوئی؟
عدالت نے کہا کہ چڑیا گھروں کو بند کردیا جائے، جانوروں کو کھلے مقامات پر رکھا جائے جیسے نیشنل پارکس میں رکھا جاتا ہے۔
دنیا بھر کے زو اور پاکستان کا نظام
جسٹس کلہوڑو نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں زو موجود ہیں مگر اس طرح نہیں جیسے ہمارے یہاں ہیں، جانوروں کو قید خانوں میں رکھنا ظلم ہے۔ عدالت نے کہا کہ بندر ہو یا کوئی اور جانور، انہیں قید خانے میں بند نہ رکھا جائے۔
ریچھ کی منتقلی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش
سماعت کے دوران سینیئر ڈائریکٹر کراچی زو نے عملدرآمد رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ، فور پاز اور قومی ایئرلائن سے ریچھ کی منتقلی کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق قومی ایئرلائن نے ہوائی سفر کے لیے ضروری ہدایات جاری کردی ہیں جبکہ محفوظ پنجرے اور پروٹوکولز پر بات چیت جاری ہے۔
فور پاز کی تجویز اور کے ایم سی کا مؤقف
رپورٹ میں بتایا گیا کہ فور پاز کی ٹیم اس وقت ارجنٹینا میں مصروف ہے اور انہوں نے ریچھ ’رانو‘ کی منتقلی 15 نومبر کے بعد کرنے کی تجویز دی ہے۔ کے ایم سی نے مؤقف اپنایا کہ اسے بین الاقوامی تنظیم کی تجویز پر کوئی اعتراض نہیں۔
جنگلی حیات کے کنزرویٹر جاوید مہر کے مؤقف
کنزرویٹر جنگلی حیات جاوید مہر نے عدالت کو بتایا کہ ایک ریچھ کی منتقلی کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات لینا مناسب نہیں، قومی ماہرین یہ کام بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے ملک کا تماشا بنتا ہے۔
کراچی زو میں صرف ایک ویٹرنری ڈاکٹر، عدالت کا اظہار حیرت
عدالت نے استفسار کیا کہ کراچی زو میں کتنے ویٹرنری ڈاکٹرز ہیں، جس پر بتایا گیا کہ صرف ایک ویٹرنری ڈاکٹر موجود ہے۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے سب سے بڑے زو میں صرف ایک ڈاکٹر؟
بھرتیوں پر پابندی اور عدالت کی ہدایت
کے ایم سی کے وکیل نے بتایا کہ نئی بھرتیوں پر پابندی ہے، اس لیے دوسرا ویٹرنری بھرتی نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اس پابندی سے متعلق رپورٹ آئندہ سماعت پر طلب کرلی اور کراچی زو میں موجود جانوروں کی تعداد و حالت زار پر بھی تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔
’پہلے ریچھ کو منتقل کیا جائے‘،عدالت کی ہدایت
عدالت نے کہا کہ پہلے ریچھ رانو کو منتقل کیا جائے، پھر دیگر جانوروں کے بارے میں بھی دیکھا جائے گا۔ سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چڑیا گھر ریچھ رانو سندھ ہائیکورٹ کراچی زو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چڑیا گھر ریچھ رانو سندھ ہائیکورٹ کراچی زو جانوروں کو کی منتقلی نے کہا کہ کراچی زو عدالت نے چڑیا گھر کے لیے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔