گزشتہ روز تاریخی اضافے کے بعد آج سونے کی قیمت میں بڑی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
گزشتہ روز تاریخی اضافے کے بعد آج سونے کی قیمت میں بڑی ریکارڈ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 October, 2025 سب نیوز
کراچی (آئی پی ایس) عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یکدم 106 ڈالر کی بڑی کمی سے 4ہزار 252 ڈالر کی سطح پر آگئی۔
عالمی مارکیٹ میں کمی کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 10ہزار 600روپے کی کمی سے 4لاکھ 46ہزار 300روپے کی سطح پر آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ؛ ایک ہی دن میں آسمان پر جا پہنچا
اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 9ہزار 088روپے گھٹ کر 3لاکھ 82ہزار 630روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
گزشتہ روز ین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں اچانک 141 ڈالر کا بڑا اضافہ ہونے کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 358 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
عالمی مارکیٹ کے اثرات مقامی سطح پر بھی نظر آئے تھے جہاں صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 14 ہزار 100 روپے کا بڑا اضافہ ہوا اور نئی قیمت 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپے فی تولہ ہوگئی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسکیورٹی فورسز کا بنوں میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2خوارج دہشت گرد ہلاک سکیورٹی فورسز کا بنوں میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2خوارج دہشت گرد ہلاک پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج پر جانےکے خواہشمند عازمین حج کیلئے خوشخبری نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر مبینہ طور پر اغوا قوم کو یقین دلاتا ہوں اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، فیلڈ مارشل پاکستان اور افغانستان کی جنگ ختم کرنا میرے لیے بہت آسان ہے، ٹرمپ ایف بی آر ٹرانسفارمیشن پلان کی بھرپور پذیرائی، عالمی سطح پر کیس اسٹڈی کے طور پر پیشCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت میں
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز