سونے کی قیمت نے نیا عالمی ریکارڈ قائم: قیمت بڑے اضافے کے بعد تاریخ کی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: دنیا بھر میں قیمتی دھات سونا ایک بار پھر تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو گیا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جمعہ کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں غیر معمولی 141 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عالمی قیمت بڑھ کر 4 ہزار 358 ڈالر فی اونس کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔
عالمی مارکیٹ کے اس جھٹکے کا اثر پاکستانی صرافہ بازاروں پر بھی نمایاں طور پر دیکھا گیا۔ ملک میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 14 ہزار 100 روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپے فی تولہ مقرر کی گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونا 12 ہزار 89 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 91 ہزار 718 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
اسی طرح ملکی سطح پر چاندی کی قیمتیں بھی پیچھے نہیں رہیں اور فی تولہ چاندی 167 روپے بڑھ کر 5 ہزار 504 روپے ہوگئی، جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 143 روپے اضافے سے 4 ہزار 718 روپے تک جا پہنچی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سال 2026ء تک سونا 5 ہزار ڈالر فی اونس کی حد عبور کر سکتا ہے۔ چین، بھارت، سعودی عرب، دبئی اور برازیل جیسے ممالک کے سینٹرل بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری میں تیزی جب کہ امریکا، روس اور جرمنی میں گولڈ کوائنز کی بڑھتی طلب نے بھی اس قیمتی دھات کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جغرافیائی کشیدگی، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار ایک بار پھر سونے کو محفوظ ترین سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دے رہے ہیں، جس سے اس کی عالمی و مقامی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔