WE News:
2026-06-02@23:23:46 GMT

کیا نان اور روٹی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہونے والا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

کیا نان اور روٹی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہونے والا ہے؟

ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں اچانک نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، گزشتہ 2 ماہ میں گندم کی فی من قیمت 2400 روپے سے بڑھ کر 4200 روپے تک پہنچ گئی ہے، جب کہ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 600 روپے مہنگا ہو کر صارفین کی پہنچ سے مزید دور ہو گیا ہے۔ قیمتوں میں بڑے اضافے کے باعث نان اور روٹی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر محمد عارف نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گندم اور آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہو چکا ہے اس لیے روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ ضروری ہے۔ چونکہ اضافے سے قبل انتظامیہ سے اجازت درکار ہوتی ہے اس لیے ایسوسی ایشن نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے ملاقاتیں کی ہیں اور درخواست کی ہے کہ روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے گندم کی قیمت میں اچانک اضافہ، روٹی نان کتنے مہنگے ہو سکتے ہیں؟

نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ اس وقت سرکاری ریٹ روٹی 18 روپے اور نان 22 روپے ہے تاہم روٹی 20 اور نان 25 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ روٹی کی قیمت 25 روپے اور نان کی قیمت 30 روپے مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

اگر انتظامیہ روٹی اور نان کی قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں دیتی تو ہمارا یہ مطالبہ ہوگا کہ ہمیں پرانے ریٹ پر آٹا فراہم کیا جائے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم آٹا مہنگا خرید کر روٹی پرانے نرخوں پر فروخت کریں۔

محمد عارف نے کہا کہ نان بائی ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں چونکہ دکانوں کے کرائے 3 لاکھ روپے سے بھی زائد ہیں اس لیے ایسے سیکٹرز میں نان اور روٹی کی قیمت دیگر علاقوں میں قیمت فروخت کی نسبت 30 فیصد زیادہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے کیا روٹی اور نان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہونے والا ہے؟

اگر اسلام آباد میں نان 30 روپے کا ہے تو ایف سیکٹرز میں نان 39 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک اور کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ اب اسلام اباد کے گاؤں دیہات اور شہری آبادیوں میں ایک ہی ریٹ ہوگا۔ پہلے گاؤں دیہاتوں میں روٹی اور نان کا ریٹ شہر کی نسبت کم تھا۔

محمد عارف نے کہا کہ ایک نان کے لیے قریباً 120 سے 150 گرام آٹا درکار ہوتا ہے جس کی لاگت میں اوسطاً 2.

5 سے 3 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایک عام روٹی کے لیے درکار 80 سے 100 گرام آٹے کی قیمت میں لگ بھگ 1.5 سے 2 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نان روٹی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نان روٹی اور نان کی قیمت کی قیمتوں میں روٹی کی قیمت روٹی اور نان ایسوسی ایشن کی قیمت میں اضافہ ہو کیا جائے

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟