Jasarat News:
2026-07-24@03:29:20 GMT

سندھ میں دھان کے کاشت کاروں کا احتجاج!

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251017-03-7

 

مجاہد چنا

پاکستان کی 75 فی صد آبادی کا انحصار زرعی شعبہ سے وابستہ ہے جبکہ صوبہ سندھ ایک زرعی صوبہ ہے، بدقسمتی سے دیگر شعبوں کی طرح زراعت کا شعبہ بھی حکومتی عدم توجہ، بے حسی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہمارا کسان ہمارے لیے اناج پیدا کرنے اور ملکی معیشت کو فائدہ پہنچانے کے لیے سردی ہو یا گرمی پورا سال اپنے بال بچوں کے ساتھ محنت کرتا ہے مگر جب ان کو صلہ ملنے کا موقعہ آتا ہے یعنی فصل اُترتی ہے تو ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا اور انہیں محنت کا پھل نہیں ملتا۔ سندھ کی خوشحالی بھی کاشت کاروں کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔ زراعت اور اس سے وابستہ لوگوں سے ناانصافی کے سندھ کی معیشت پر بھی برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ کیوں کہ جب فصل اچھی اور اس کے ریٹ اچھے ہوں گے تو نہ صرف اس کی سال بھر کی تھکاوٹ اترے گی بلکہ وہ ضروریات زندگی کی چیزیں خریدے گا۔ اگر ریٹ مناسب نہیں ملیں گے تو مایوس اور ان کے گھر پر غربت و افلاس کے ڈیرے ہوں گے۔ سندھ کے زراعت کو تو پہلے ہی پانی کی کمی اور پھر سیلاب کی صورتحال نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ زراعت سے مایوسی پراپرٹی میں اچھا منافع ملنے کی وجہ سے زرعی زمینوں پر رہائشی سوسائٹیاں قائم کرنے کا رجحان بھی تیزی کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے۔ مگر ان تمام ترمشکلات کے باجود ہمارے لیے اناج اُگانے والے کاشت کاروں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے تو پانی کا بحران، نقلی و مہنگے بیج وکھاد و اسپرے والی دوائیوں سے پریشان پھر موسمی تبدیلی کی وجہ سے رسک بھی اٹھاتے ہیں مگر جب فصل مارکیٹ میں پہنچتی ہے تو ان کو فی ایکڑ لاگت کے ریٹ بھی نہیں مل پاتے۔ اس وقت ساری یعنی (دھان) کے کاشت کار بھی اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ دھان کی فصل اُترتے ہی بیوپاریوں کی جانب سے گیارہ سوروپے فی من قیمت گرادی گئی ہے۔ اس ناانصافی کے خلاف بدین، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان اور کندھکوٹ سمیت پورے صوبہ میں دھان کے کاشت کار احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں مگر حکومت خاموش تماشائی بن کر زراعت کو تباہ کر رہی ہے جو مستقبل میں خوراک و معاشی بحران کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

دھان کے کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے سرمایہ دار طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے سندھ کے کاشت کاروں کو کاروباری مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ کچھ دنوں پہلے تک فی من 32 سوروپے بکنے والی دھان کی قیمت ایک ہزار روپے کم کرکے 21 سو سے 22 سو روپے کردی گئی ہے جس سے فی من لاگت تو اپنی جگہ الٹا ہمارا نقصان ہو رہا ہے۔ ایک ہزار سے گیارہ سوروپے ریٹ کم ہوجانے کی وجہ کاشت کاروں کا معاشی قتل ہے اس سے قبل یہی حال گنے، گندم کے آبادکاروں کے ساتھ کیا گیا ہے، گندم کاشت کاروں سے 22 روپے خریدی گئی اور اب آٹا پانچ ہزار روپے من بیچا جارہا ہے۔ یہ نہ صرف کاشت کاروں کے ساتھ ناانصافی بلکہ سراسر زراعت دشمنی ہے۔ اس صورتحال سے زراعت پیشہ لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔ رائس مل مالک اور چاول کے تاجر کہتے ہیں کہ دھان کی فصل جب تازہ اُترتی ہے تو اس میں نمی ہوتی ہے ایک من دھان خریدنے کے بعد جب پروسس کرتے ہیں تو اس میں کم از کم پانچ سے سات کلو نمی کی وجہ سے کم ہوجاتی جس کی وجہ کاشت کاروں سے کٹوتی کی جاتی۔ یہ نمی ایک خاص مشین سے چیک کی جاتی اسی حساب سے کٹوتی ہوتی ہے۔ ظاہر بات ہے بیوپاری خود تو نقصان نہیں اٹھائے گا۔ جب تازہ فصل پانی سے کاٹ کر لائے جاتی ہے تو گیلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے کٹوتی ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب ایکسپورٹ کم ہوگی یا بالکل نہیں ہوگی تو پھر لامحال ریٹ بھی کم ہوں گے یہ مقامی تاجر نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ریٹ کم ہوجاتے ہیں تو اس کا اثر یہاں بھی پڑتا ہے۔ پھر مقامی تاجر بھی اسی ریٹ کے حساب سے خریداری کرتے ہیں۔ اگر حکومت چاول کی ایکسپورٹ کی خصوصی منصوبہ بندی کرے تو ریٹ مناسب ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں کٹائی کے بعد کافی دن کھیت پررکھی جاتی تھی پھر بیل گاڑیوں کا استعمال ہوتا تھا تب تک دھان سوکھ جاتی تھی مگر اب جدید دور ہے ادھر سے فصل کاٹی اور مشین میں ڈال کر نکال لی جاتی ہے جہاں اس کے فائدے ہیں تو نقصان بھی ہیں۔

تیرہ اکتوبر کو جماعت اسلامی کسان بورڈ کے تحت ضلع کشمور کے صدر مقام کندھکوٹ میں صوبائی امیر کاشف سعید شیخ کی قیادت میں دھان کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف گھنٹہ گھر سے حقوق کسان ریلی نکالی گئی۔ جس میں کسانوں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء تپتی دھوپ شدید گرمی کے باوجود ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھ گئے اور ’’کسانوں کو ان کا حق دو، دھان کی قیمت دو کسانوں کا معاشی استیصال بند کرو‘‘ کے نعرے لگائے۔ امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ کا کہنا تھا کہ کسانوں کو کسان کارڈ نہیں بلکہ ان کو دھان سمیت اپنی فصلوں کی مناسب قیمت دی جائے۔ صوبائی امیر نے اعلان کیا آئندہ اتوار19 اکتوبر کو دھان کی مناسب قیمت کسانوں کے ساتھ ہونے والی نانصافیوں کے خلاف سندھ بھر میں پریس کلب اورڈی سی آفس کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے۔ کسانوں کے ساتھ ناانصافی ختم کی جائے اور دھان کی قیمت کم از کم 4 ہزار روپے فی من امدادی قیمت مقرر کرکے حکومت عملدرآمد یقینی اور سرکاری خریداری کے مراکز قائم کیے جائیں۔ سندھ بھر کے کسان اور زمیندار پانی کی قلت، کھاد کی بلیک مارکیٹ میں فروخت، مہنگے بیج اور ادویات کی قلت کے خلاف گزشتہ کئی روز سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں لیکن گونگے بہرے حکمران کوئی دھیان نہیں دے رہے۔ گزشتہ 15 سال سے سندھ کے کسانوں کو گنے، گندم اور دھان کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ سندھ کے کسانوں کے خلاف مل مالکان، سرمایہ داروں اور حکومت کی ملی بھگت سے زراعت تباہ ہو چکی ہے۔ اس سے قبل کسان بورڈ پاکستان کے تحت 24، 25، 26 اکتوبرکو پنجاب میں کسان بچائو پاکستان بچائو روڈ کاروان کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔

ایسے محسوس ہورہا ہے کہ حکومت من پسند وڈیروں اور جاگیرداروں کو نواز رہی ہیں جب کہ چھوٹے کسانوں کو برباد کیا جارہا ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمت بھارت کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ ہے، بیج اور زرعی ادویات مہنگی اور جعلی ہیں۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والوں کو دیوار سے لگانے کے بجائے ان کی سرپرستی و حوصلہ افزائی کرے۔ نہ صرف ان کو بیج کھاد ودیگر زرعی آلات میں خصوصی سبسڈی دی جائے۔ بلکہ موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے آگاہی دے بلکہ بروقت فصلوں کی کاشت کے حوالے سے بھی رہنمائی کرے۔ حکومت بروقت دھان کی سرکاری امدادی قیمت مقرر کرنے کے عملدرآمد یقینی اور سرکاری خریداری کے مرکز بھی قائم کرے۔ مناسب ریٹ اور ناجائز کٹوتی کا بھی نوٹس لے۔ وفاقی حکومت چاول کی ایکسپورٹ کے لیے خصوصی منصوبہ بندی اور بیرونی ممالک میں مارکیٹنگ کرے۔ زراعت کے فروغ اور کاشت کاروں کی خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کاشت کاروں کے احتجاج کے احتجاج پر سنجیدگی کا مظاہر اور ان کے دکھوں کا مداوا کرے۔

مجاہد چنا.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے کہ حکومت کاشت کاروں کسانوں کے کسانوں کو کی وجہ سے جارہا ہے ہوتی ہے کی قیمت دھان کی دھان کے کے کسان نہیں مل کے ساتھ کے کاشت کے خلاف سندھ کے کے لیے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن