جماعت اسلامی کسان بورڈ کا سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے و دھرنوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
بدین میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی قیادت امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کسان بورڈ سندھ نے حکومت کے کسان کارڈ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”لولی پاپ“ قرار دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ دھان کے کسانوں کو ان کی فصلوں کی مناسب قیمت دی جائے اور غیر قانونی کٹوتی بند کی جائے، 19 اکتوبر بروز اتوار کسانوں بالخصوص دھان کے کسانوں کے حقوق کیلئے سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیئے جائیں گے، بدین میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی قیادت امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ کریں گے، ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کسان بورڈ سندھ کے صدر عبدالقدوس احمدانی نے کراچی میں منعقدہ صوبائی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عبدالقدوس احمدانی نے کہا کہ عوامی اور جمہوریت کی دعویدار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سندھ میں دھان کے کاشتکاروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا نوٹس لے، اس وقت دھان کے کسان سندھ بھر میں سراپا احتجاج ہیں، لیکن حکمرانوں کے کانوں پرجوں تک نظر نہیں رینگتی، ایسا لگتا ہے کہ حکومت یا تو سرمایہ داروں و رائس مل مالکان کے ہاتھوں یرغمال ہے یا اس ظالمانہ اقدام میں ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے، جو سراسر زراعت اور کسان دشمنی ہے۔
عبدالقدوس احمدانی نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح ہاری کارڈ لولی پاپ بھی کرپشن اور اقربا پروری کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہاری کارڈ نہیں بلکہ کسانوں کو ان کی فصلوں کی مناسب قیمت دی جائے۔ عبدالقدوس احمدانی نے قائدین پر زور دیا کہ وہ اتوار کو ہونے والے احتجاج کو کامیاب بنائیں، جس میں کسان اپنی ٹریکٹر ٹرالیوں، کدال لہاڑی و دیگر زرعی سامان کے ساتھ شرکت کریں۔ اجلاس میں کندھ کوٹ دھرنے کا جائزہ اور دھان کے کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کے ساتھ عدل و انصاف کیلئے قانونی جنگ لڑنے اور رائس مل مالکان اور سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عبدالقدوس احمدانی نے احتجاجی مظاہرے جماعت اسلامی دھان کے کسان کے ساتھ
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ