پنجاب میں فصل جلانے کے رجحان میں کمی، کسانوں نے نئی تاریخ رقم کردی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے ماحول دوست وژن اور مؤثر پالیسیوں کے نتیجے میں صوبے میں فصل کی باقیات جلانے کا رجحان نمایاں طور پر کم ہونے لگا ہے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں کسانوں نے فصل کی باقیات کو جلانے کے بجائے جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال کرنے کا آغاز کیا ہے، جس سے نہ صرف سموگ میں کمی آئی ہے بلکہ ماحولیات کے تحفظ کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔
فصل کی باقیات جلانے کے بجائے جدید طریقہ کار کا استعمالپنجاب میں پہلی بار کسانوں نے جدید مشینری کے ذریعے فصل کی باقیات کو محفوظ انداز میں جمع کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ 14 دیہاتوں کے 11 ہزار 205 ایکڑ رقبے سے جدید مشینری کے ذریعے فصل کی باقیات جمع کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تصویر والے جھنڈے کا معاملہ کیا ہے ؟
پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ ہزار سُپر سیڈر کے ذریعے دو لاکھ ایکڑ رقبہ کاشت کیا گیا، جو جلایا نہیں گیا بلکہ ماحول دوست طریقے سے استعمال میں لایا گیا۔
ضلع چنیوٹ، اوکاڑہ، پاکپتن، نارووال اور فیصل آباد کے کسانوں نے جدید مشینری کے ذریعے فصل کی باقیات کو گانٹھوں کی شکل میں جمع کر کے چارے کے طور پر استعمال کیا۔
ضلع چنیوٹ کے موضع جات رائے چند، جیل بھٹیان، راؤ باغ، طاہر آباد اور احمد آباد کے علاوہ اوکاڑہ، سوہبا اور دیپالپور کے علاقوں میں جدید مشینری کے استعمال سے سموگ کی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔
اضلاع میں فصل کی باقیات جمع کرنے کی تفصیلاتچنیوٹ کے پانچ دیہاتوں میں 4700 ایکڑ رقبے سے فصل کی باقیات جمع کی گئیں، اوکاڑہ کے چار دیہاتوں میں 3350 ایکڑ، پاکپتن کے تین دیہاتوں میں 1845 ایکڑ، نارووال کے ایک دیہات میں 725 ایکڑ جبکہ فیصل آباد کے ایک گاؤں میں 585 ایکڑ رقبے سے فصل کی باقیات جدید مشینری کے ذریعے اکٹھی کی گئیں۔
ان اضلاع میں ٹرالیوں کی مدد سے فصل کی باقیات کو کھیتوں سے دوسرے مقامات پر منتقل کیا گیا، جس سے زمین کی زرخیزی اور ہوا کے معیار میں بہتری آئی۔
سموگ پر قابو پانے کے لیے جدید اقداماتوزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سموگ پر قابو پانے کے لیے انتظامی اقدامات کے ساتھ جدید مشینری کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی۔ ماضی میں فصل کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں سموگ کا باعث بنتا تھا، تاہم جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں لکڑی اور کوئلہ جلانے پر پابندی
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ جدید مشینری کے استعمال سے سموگ پر قابو پانے میں مدد ملنا خوش آئند ہے۔ فصل جلانے کے بجائے چارے کے طور پر استعمال کرنے والے کسانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔ ماحولیاتی بہتری اور جدید طریقہ کاشتکاری کو فروغ دینا پنجاب حکومت کا اولین مشن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب سموگ فصلوں کی باقیات ماحول دوست مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سموگ فصلوں کی باقیات ماحول دوست مریم نواز جدید مشینری کے ذریعے فصل کی باقیات کو جلانے کے
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔