انڈونیشیا میں بارشوں،سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ سےہلاکتوں کی تعداد 300سےمتجاوز
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جکارتا: انڈونیشیا کے جزیرہ سماترا میں شدید بارشوں، تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 303 ہوگئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تاحال 174 افراد لاپتا ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
درجنوں دیہات لینڈ سائیڈنگ کی زد میں آکر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں جب کہ ملبے تلے دبی لاشیں ملنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امدادی کاموں کے دوران ملبے تلے دبی 31 لاشیں ملی ہے جس سے ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کرگئیں۔امدادی کاموں میں ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کے عملے کے علاوہ 3 ہزار 500 زائد پولیس اہلکار بھی مصروف ہیں۔
شدید تباہی کے باعث شمالی سماترا کے کئی علاقے زمینی راستوں سے کٹ چکے ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔امدادی سامان کی ترسیل کے لیے فضائی مدد لی جا رہی ہے جبکہ بھاری مشینری کی کمی سے ریسکیو کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔
موسلادھار بارشوں کے باعث دریا ابل پڑے اور سیلاب کناروں کوے توڑتا ہوا بھاری ملبے کے ساتھ رہائشی علاقوں میں داخل ہوا جس نے کئی پہاڑی دیہات کو لپیٹ میں لے لیا۔
ویسٹ سماترا کے اگام ضلع میں تین دیہاتوں میں تقریباً 80 لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور بھاری مشینری نہ ہونے کے سبب زندہ بچ جانے والوں تک رسائی انتہائی مشکل ہوچکی ہے۔
سب سے زیادہ متاثر آچے کا علاقہ ہوا ہے جہاں صورتحال انتہائی سنگین ہے اور بھاری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث پولیس، فوج اور مقامی لوگ ہاتھوں، بیلچوں اور اوزاروں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں۔
گورنر موزاکر مناف نے 11 دسمبر تک ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
خیال رہے کہ انڈونیشیا، سری لنکا اور ملائیشیا میں تباہی پھیلانے والا طوفان اب تھم چکا ہے اور شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے باعث
پڑھیں:
تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا میں تباہ کن سیلاب! ہلاکتیں 33 تک پہنچ گئیں
تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا دہائیوں بعد آنے والے بدترین سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، تینوں ممالک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 33 ہو گئی ہے۔
شدید بارشوں نے تھائی لینڈ کے جنوبی شہر ہاٹ یائی کو تقریباً ڈوبا دیا، جہاں جمعہ کے روز 335 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ 300 برسوں میں ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔
سیلاب نے تھائی لینڈ کے 9 اور ملائیشیا کے 8 صوبوں کے علاوہ انڈونیشیا کے متعدد علاقوں کو بھی متاثر کیا، جہاں تقریباً 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ انڈونیشیا میں 13 اور ملائیشیا میں ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
ہاٹ یائی شہر کے ہسپتالوں میں پانی داخل ہونے کے بعد تھائی فوج نے کشتیوں، ہیلی کاپٹروں اور حتیٰ کہ اپنے واحد طیارہ بردار جہاز کو بھی امدادی کارروائیوں کے لیے متحرک کیا۔ شہر کے کئی علاقے بجلی کے بغیر رات بھر اندھیرے میں ڈوبے رہے جبکہ متاثرہ لوگ چھتوں پر محصور ہو گئے۔
حکام کے مطابق بعض علاقوں میں پانی کم ہو رہا ہے، تاہم تیز بہاؤ کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تھائی فوج نے 200 کشتیاں اور 20 ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دیے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر تقریباً 77 ہزار سے زائد افراد نے مدد کی اپیلیں بھیجی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید موسمی صورتحال کا تعلق بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت سے ہو سکتا ہے، جو ٹراپیکل طوفانوں کو مزید طاقتور بنا رہا ہے۔