سیاسی سرپرستی میں پولیس اور ایکسیٔن کی پانی چوروں سے ماہانہ لاکھوں روپے بھتا وصولی
ڈیفنس ویو ، قیوم آباد ، جونیجو ٹاؤن، منظور کالونیکے عوام مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور

( رپورٹ: افتخار چوہدری )ضلع ایسٹ کے علاقے بلوچ کالونی پولیس اسٹیشن اور منظور کالونی پمپنگ اسٹیشن کے ایکسیٔن کی سرپرستی میں ڈیفنس ویو ، قیوم آباد ، جونیجو ٹاؤن اور منظور کالونی میں منی ہائیڈرنٹ چلنے کا انکشاف ہوا ہے۔لائینوں کے ذریعے گھروں میں پانی ملنے کی لالچ میں ووٹ دینے والی غریب عوام مہنگے داموں پانی کے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہو گئی۔ سیاسی سرپرستی میں متعلقہ پولیس اور واٹر بورڈ منظور کالونی پمپنگ اسٹیشن کا عملہ پانی چوروں سے ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ وصول کرتاہے۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں شہریوں کے لیے پانی کا حصول دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے، بیشتر علاقوں میں نلکوں کے ذریعے پانی کے بجائے ہوا نکلتی ہے جبکہ جو ٹینکر پہلے کم ریٹس پر مل جاتے تھے اب دگنے اور تین گنا دام میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔جبکہ سندھ حکومت اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے اعلیٰ حکام نے واٹر ٹینکرز مافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، سرکاری ہائیڈرنٹ پر کمرشل واٹر ٹینکرز کے ریٹس، ٹینکرز کی تعداد اور ٹرپس میں غیرمعمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ ان واٹر ٹینکرز کی وجہ سے شہری لائن کے ذریعے پانی سے محروم ہوگئے ہیں جبکہ ٹینکرز کی آمد و رفت کی وجہ سے اہم شاہرائیں اور سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں۔کراچی واٹر کارپوریشن کی نااہلی کے باعث شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پانی کی زیر زمین لائینیں موجود ہونے کے باوجود ہزاروں مقیم پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔جبکہ کراچی شہر میں واٹر کارپوریشن کی زیر نگرانی واٹر ہائیڈرینٹس کی تعداد 7 ہے جو سخی حسن، نیپا چورنگی، صفورا چورنگی، کرش پلانٹ، شیر پاؤ کالونی، لانڈھی ون فیوچر کالونی اور بلدیہ ٹاؤن میں واقع ہیں۔ واٹر بورڈ کی زیر نگرانی ہائیڈرینٹس میں ٹینکرز کے یومیہ 40ہزار سے 50ہزار ٹرپس ہوگئے ہیں، ان ٹینکرز کے ذریعے روزانہ 30 سے 40 ملین گیلن پانی شہریوں کو فروخت کیا جاتا ہے،اس کے علاوہ شہر میں ابھی بھی درجنوں غیر قانونی ہائیڈرینٹس کام کر رہے ہیں جو واٹر بورڈ کی لائنوں سے پانی چوری کرکے فروخت کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق بلوچ کالونی تھانے کی حدود ڈیفنس ویو، جونیجو ٹاؤن اور منظور کالونی میں پانی چور مافیا نے RO پلانٹ کی آڑ میں غیر قانونی منی ہائیڈرنٹس کھول رکھے ہیں ۔جبکہ پانی چور مافیا نے زمہ دار اداروں کے ساتھ مل کر رہائشی عمارتوں کے نیچے ہزاروں گیلن پانی کے زیر زمین ٹینک بنا رکھے ہیں جہاں سے یومیہ ہزاروں گیلن چوری شدہ پانی واٹر ٹینکروں کے زریعے غیر قانونی طریقے سے شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈیفنس ویو کے علاقے میں واقع پلاٹ نمبر SS-53 پلاٹ نمبر SS-52 پر منی ہائیڈرنٹ سراج خٹک اور محمود چلا رہا ہے ۔جبکہ اس ہی علاقے میں مذکورہ علاقے میں پلاٹ نمبر K-88 پر منی ہائیڈرنٹ منشاء نامی شخص اور پلاٹ نمبر DD-36 پر منی ہائیڈرنٹ ثاقب عرف پاشا چلا رہا ہے ۔ بلوچ کالونی تھانے سے چند قدم کے فاصلے پر ڈیفنس ویو دیوار کے ساتھ چائنا کٹنگ پلاٹ پر ایم سہیل برادر منی ہائیڈرنٹ دھڑلے سے چلا رہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق جونیجو ٹاؤن میں غیر قانونی منی ہائیڈرنٹ مصطفی نامی شخص چلا رہا ہے ۔ منظور کالونی میں بھی جگہ جگہ رہائشی گھروں میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس متعلقہ پولیس اور ایکسین منظور کالونی پمپنگ اسٹیشن کی سرپرستی میں چل رہے ہیں ۔ ڈیفنس ویو کے پانی چور بلوچ کالونی پولیس اور واٹر بورڈ منظور کالونی پمپنگ اسٹیشن کے ایکسیٔن و عملے کو ماہانہ لاکھوں روپے رشوت کے عوض ادا کر رہے ہیں ۔واضع رہے کہ اس علاقے کی عوام نے پانی لائنوں کے ذریعے گھروں تک پہنچنے کے جھوٹے وعدوں پر سیاسی جماعت کو ووٹ دیے تھے ۔لیکن علاقے میں کچھ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی مافیا اسی غریب عوام کا پانی چوری کر کے مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: منظور کالونی پمپنگ اسٹیشن منی ہائیڈرنٹ جونیجو ٹاو ن مہنگے داموں سرپرستی میں بلوچ کالونی واٹر بورڈ پولیس اور پلاٹ نمبر علاقے میں کے مطابق کے ذریعے رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف