(ویب ڈیسک )وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت افغان مہاجرین کی واپسی پر اعلیٰ سطح کا اجلاس جاری ہے جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سوا تمام وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزاد کشمیر شریک ہیں۔

 وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے قومی سطح کے اس اہم ترین اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی، تین صوبوں کے وزرائے اعلی، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ شریک ہیں۔

نادرا نے عوام کی پریشانی دور کردیا، فیس ختم کرنے کا اعلان

 اجلاس میں عسکری حکام اور وفاقی کابینہ کے ارکان بھی شریک ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسلام آباد میں موجود ہونے کے باوجود شریک نہ ہوئے، اجلاس کا صرف ایک نکاتی ایجنڈا افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل پر غور ہے، اجلاس میں اجلاس میں افغان مہاجرین کے حوالہ سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

 دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں پر بھی اجلاس طلب کیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے بچے کیساتھ والد کو بھی پولیو قطرے پلا دیے

 وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا، سیلاب متاثرین کی بحالی میں ہونے والی پیشرفت پر بھی غور ہوگا،اس کے علاوہ اجلاس میں گندم پالیسی پر بھی بات چیت ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔

دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ