ججوں کی آزادی و سالمیت کے تحفظ کے اقدامات ضروری ہیں: چیف جسٹس پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی—فائل فوٹو
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی آزادی اور سالمیت کے تحفظ کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا اجلاس چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوا۔
اجلاس میں اٹارنی جنرل نے لاپتہ افراد پر بنی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ تقریباً حل ہو چکا ہے، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں حالیہ ترمیم سے مسئلہ حل ہو چکا، شکایات کے ازالے کے لیے ایک جامع میکانزم وضع کیا جائے گا، آئندہ میٹنگ میں مکمل میکانزم پیش کر دیا جائے گا۔
اجلاس میں عدلیہ میں مداخلت کے خلاف ادارہ جاتی ردِ عمل پر بھی غور کیا گیا۔
انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے استدعا کی کہ اڈیالہ جیل حکام کو ملاقات کی اجازت دینے کے لیے ضروری احکامات جاری کیے جائیں۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے تمام ہائی کورٹس کی جانب سے مداخلت کے خلاف ایس او پیز وضع کرنے کی تعریف کی اور کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی آزادی اور سالمیت کے تحفظ کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ججوں کے لیے ضابطۂ اخلاق میں ترامیم کی تجویز پیش کی ہے، بیرونی اثر و رسوخ کا جواب دینے کے لیے ایک ادارہ جاتی میکانزم بنانے کی کوشش کی ہے۔
اجلاس کے دوران کوڈ آف کنڈکٹ میں ترمیم کا معاملہ جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز نے چیف جسٹس پاکستان کی تجاویز سے اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس پاکستان یحیی کے لیے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔