احتجاج کی آڑمیں کسی کوغیرقانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائےگی،سی سی پی او
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
لاہور پولیس نے ہڑتال کی کال کے پیش نظر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے واضح وارننگ دی ہے کہ شرپسند عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، اور احتجاج کی آڑ میں کسی کو بھی غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ شہریوں کی جان، مال اور املاک کا تحفظ لاہور پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی صورت میں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مکہ مکرمہ میں تاریخی ’’کنگ سلمان گیٹ‘‘ منصوبے کا اعلان
سی سی پی او نے واضح کیا کہ آج تمام مارکیٹس اور کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے اور اگر کسی نے سڑکیں، دکانیں یا ٹرانسپورٹ بند کروانے کی کوشش کی تو فوری ایکشن لیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر، غیر قانونی مواد اور لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر قانون حرکت میں آئے گا، اور ایسے عناصر قانون کی آہنی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔