6 کروڑ ناظرین کے ساتھ ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ میں نیا ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مطابق ویمنز ورلڈ کپ 2025 نے ناظرین کے تمام سابق ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جب کہ ابتدائی 13 میچز کو دنیا بھر میں 6 کروڑ سے زائد شائقین نے دیکھا۔
یہ پہلا ویمنز ورلڈ کپ ہے جس کی انعامی رقم گزشتہ مردوں کے ون ڈے ورلڈ کپ سے زیادہ ہے، جس کا کل انعامی خزانہ 13.88 ملین ڈالر (11.9 ملین یورو) رکھا گیا ہے۔
#UPDATE: Bizarre Scene at Women’s Cricket World Cup After Pakistani Players Spray Field Before India Match
A bizarre scene unfolded during the Women’s Cricket World Cup when Pakistani players were seen spraying a substance on the field just before the Indian team entered.
— Mowliid Haji Abdi (@MowliidHaji) October 6, 2025
بھارت اور سری لنکا میں جاری 50 اوورز کے اس ٹورنامنٹ کے 13ویں ایڈیشن میں 8 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں، اور فائنل 2 نومبر کو منعقد ہوگا۔
آئی سی سی اور جیو ہاٹ اسٹار کے مشترکہ اعداد و شمار کے مطابق، ابتدائی 13 میچز کے دوران ناظرین کی تعداد 2022 کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ رہی۔
یہ بھی پڑھیں:ویمنز ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے ریکارڈ ہدف حاصل کرکے بھارت کو شکست دیدی
رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان 5 اکتوبر کو کولمبو میں کھیلا گیا میچ خواتین کرکٹ کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا بین الاقوامی مقابلہ بن گیا، جسے 2 کروڑ 84 لاکھ سے زائد ناظرین نے دیکھا۔
دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا آٹھویں مرتبہ ٹائٹل جیتنے کی دوڑ میں شامل ہے، جبکہ میزبان بھارت پہلی بار ورلڈ کپ جیتنے کے عزم کے ساتھ میدان میں ہے۔
دوسری جانب پاکستانی ٹیم اپنے تمام میچز کولمبو میں کھیل رہی ہے، جو کہ ایک سمجھوتے کے تحت طے پایا، تاکہ بھارت اور پاکستان دونوں ٹیمیں غیر جانبدار میدانوں پر کھیل سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل جیو ہاٹ اسٹار ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ ورلڈ کپ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔