بھارت میں شخص نے طلاق کا جشن شادی کی طرح منالیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: بھارت میں ایک شخص کی طلاق کے موقع پر شادی جیسے جشن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں وہ اپنی علیحدگی کو خوشی کے موقع کے طور پر مناتے ہوئے نظر آتا ہے۔
یہ ویڈیو ڈی کے برادر نامی ایک ڈیجیٹل کریئیٹر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی، جسے اب تک تین ملین سے زائد ناظرین دیکھ چکے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شخص کی والدہ اسے دودھ سے غسل دیتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے شادی کی رسم میں کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ دلہا جیسا لباس پہن کر ایک کیک کاٹتا ہے، جس پر نمایاں حروف میں لکھا ہے طلاق مبارک۔
ویڈیو کے ساتھ دیے گئے کیپشن میں وہ شخص لکھتا ہے کہ افسردہ ہونے کے بجائے خوش ہوں، 120 گرام سونا اور 18 لاکھ کیش دینے کے بعد آزاد ہوں۔ میری زندگی، میرے اصول — سنگل اور خوش!”
اگرچہ ویڈیو نے دیکھنے والوں میں دلچسپی اور حیرت پیدا کر دی ہے، تاہم اس واقعے کی تصدیق یا تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ نہ ہی اس شخص کی حقیقی شناخت یا اس کی سابقہ اہلیہ سے متعلق معلومات دستیاب ہیں۔
صارفین کی جانب سے اس ویڈیو پر مختلف اور متضاد ردعمل سامنے آئے — کچھ نے اسے “نئی سوچ” قرار دیا، تو کئی نے اسے “رسم و رواج کا مذاق۔
یہ واقعہ اس امر کی واضح جھلک پیش کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کس طرح ذاتی زندگیوں کو عوامی تماشہ بنا دیتا ہے، اور شادی یا طلاق جیسے حساس موضوعات بھی آن لائن تفریح اور بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔