ڈبلیو ایچ او کا اجلاس، مصطفیٰ کمال کا گلوبل پولیو ایریڈیکیشن کے شراکت داروں کو خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
قاہرہ میں عالمی ادارہ صحت کے 72 ویں مشرقی بحیرہ روم علاقائی اجلاس ہوا جس میں وزیر صحت مصطفی کمال نے خطاب کیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کو یقینی بنانے کیلیے پر عزم ہیں اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے موثر اقدامات جاری ہی۔ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے تحت بنیادی اور کمیونٹی سطح پر ضروری اقدامات کا پیکج تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر اقدامات کی بدولت پاکستان کے یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس میں مسلسل بہتری آئی ہے۔ پاکستان نے صحت کے شعبے میں تیاری اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے جس میں ملکی سرمایہ کاری اور شراکت داروں کے تعاون نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے پاکستان نے پختہ عزم کر رکھا ہے۔ چار کروڑ 50 لاکھ بچوں کو ویکسین لگانے کی بھرپور مہمات جاری ہیں اور مؤثر نگرانی کا نظام اور سرحد پار مربوط کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو کے شراکت داروں کے کردار قابل تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ حکومت پاکستان 2026–2035 کی نیشنل ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ ویکسین کی مقامی پیداوار میں خود کفالت کیلیے اقدامات جاری ہیں جبکہ ٹیلی میڈیسن سمیت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا انضمام، اور "ایک مریض، ایک شناخت" جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر ڈیٹا مینجمنٹ اور یونیورسل میڈیکل ریکارڈ کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کو چاہیے کہ وہ تکنیکی معاونت اور ہم آہنگی کے لیے اپنا قیادی کردار جاری رکھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
اسلام آباد:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا اہم اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں اور ان کی دستیابی سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، چیف ایگزیکٹو آفیسرڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور وزارتِ خزانہ و تجارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ڈریپ نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق مختلف معاملات اور ضروری ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور مختلف سفارشات پیش کی گئیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق تمام فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ایک جانب مریضوں کو ضروری ادویات مناسب قیمت پر دستیاب رہیں اور دوسری جانب ادویہ ساز صنعت کی پائیدار پیداوار اور فراہمی بھی متاثر نہ ہو۔
محمد اورنگزیب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں اور ان کی وجوہات سے عوام کو بروقت اور واضح انداز میں آگاہ کیا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کی سفارشات اور ڈریپ کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں، تاہم حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد اور مریضوں کی سہولت کو ہر صورت ترجیح دی جائے گی۔