اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی سب پر لازم ہے، سب کے لیے انصاف و احترام ضروری ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق اسلام آباد میں سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق کسی بھی معاشرے کے استحکام میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں.

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام کا پیغام برداشت اور رواداری کا ہے، آج کی تقریب آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے استفادہ کا موقع فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، ہم سب نے مل کر معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے، اختلاف رائے کے باوجود ایک چھت تلے رہتے ہیں، عزت و انصاف کے لیے اتحاد قائم رہتا ہے۔

اداکارہ رمشا خان اپنے انگریزی لہجے کے باعث ٹرولنگ کی زد میں آ گئیں

مزید :

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: چیف جسٹس کے لیے نے کہا

پڑھیں:

فیڈریشن کو بچانا ہے تو موجودہ حکمرانوں سے نجات پانا لازم ہے، علامہ ناصر عباس

سربراہ مجلس وحدت المسلمین علامہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں کوئی فیڈریشن نہیں ہے، موجودہ حکمران ملک کو توڑنا چاہتے ہیں، ان سے نجات پانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے تاکہ پاکستان فیڈریشن بچ سکے۔ راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے دھرنے کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ظلم کے خلاف ریزسٹ کرنا فرض ہوتا ہے، اگر ظالموں کے مقابلے میں چپ رہیں تو وہ مزید دلیر ہوتے ہیں، اس وقت پاکستان ایک ایسے مافیا کے ہاتھ میں جو ظالم بھی ہے اور بے رحم بھی۔ انہوں نے کہا کہ اس مافیا کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ ہمیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر رہے ہیں، قیدیوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں، پاکستان کے عوام کے الیکٹڈ نمائندے یہ نہیں ہیں، یہ گھس بیٹھیے ہیں، یہ ظالم ہیں، قاتل ہیں، بے رحم ہیں، ان سے اس وطن کی جان چھڑوانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی یہاں آئے ہوئے ہیں، ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں جہاں پر مشکلات ہیں، مسائل ہیں، وہ اپنے لیڈر سے ملنا چاہتے ہیں، وزیر اعلیٰ ان سے گائیڈ لائن لینا چاہتے ہیں، یہ اتنے عجیب و غریب قسم کے حکمران ہیں، ان کو کے پی کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ سربراہ مجلس وحدت المسلمین کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم سے کہو کہ ملاقات کراؤ تو وہ کہتا ہے پوچھ کے بتاتا ہوں، اب سوچیں یہ ہیں ہمارے حکمران، ایسے لوگ ہم پر مسلط ہیں، جب عوام کے رائے کو ٹھکرا کر ڈاکہ ڈال کر مسلط ہوں گے پھر یہی حکمران ہوں گے، یہ بھکاری کمزور، چھوٹے، حقیر اور بے بس لوگ ہیں، یہ دھبہ ہے پاکستان کے نام پر۔

متعلقہ مضامین

  • ججز کو قانون کی حکمرانی کیلیے کھڑا ہونا چاہیے، کسی دباؤ میں فیصلہ نہ کریں، جسٹس مندوخیل
  • ججوں کو فیصلے قانون کے مطابق کرنے چاہیے نہ کہ ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے، جسٹس جمال مندوخیل
  • قانون کی حکمرانی کے لئے ججوں کو کھڑا ہونا چاہئے؛جسٹس جمال مندوخیل
  • ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط موقف اپنانا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل
  • ججوں کو قانون کی حکمرانی کیلئے کھڑے ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل
  • چیف  جسٹس اسلام آباد  ہائیکورٹ کا ملاقات سے گریز شہیل آفریدی کا منگل کو دھرنے کا اعلان 
  • وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی
  • چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزیراعلیٰ کے پی سے ملاقات سے انکار
  • چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے ملاقات سے انکار کر دیا
  • فیڈریشن کو بچانا ہے تو موجودہ حکمرانوں سے نجات پانا لازم ہے، علامہ ناصر عباس