قانون کی حکمرانی سب پر لازم ہے، سب کے لیے انصاف و احترام ضروری ہے: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی سب پر لازم ہے، سب کے لیے انصاف و احترام ضروری ہے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق اسلام آباد میں سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق کسی بھی معاشرے کے استحکام میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں.
چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام کا پیغام برداشت اور رواداری کا ہے، آج کی تقریب آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے استفادہ کا موقع فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، ہم سب نے مل کر معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے، اختلاف رائے کے باوجود ایک چھت تلے رہتے ہیں، عزت و انصاف کے لیے اتحاد قائم رہتا ہے۔
اداکارہ رمشا خان اپنے انگریزی لہجے کے باعث ٹرولنگ کی زد میں آ گئیں
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چیف جسٹس کے لیے نے کہا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔