تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی پر پرنسپل کیخلاف ایکشن ہوگا: اسلام آباد ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے خبردار کیا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں میں منشیات کی فراہمی میں کوئی بھی ملوث پایا گیا تو ذمہ داری ادارے کے پرنسپل پر عائد ہوگی اور کارروائی بھی انہی کے خلاف کی جائے گی۔
وفاقی تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس نے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق رواں سال اب تک 1314 منشیات سے متعلق مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور 1408 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں کے آس پاس کے علاقوں سے 22 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا، جن سے مجموعی طور پر 3 کلو ہیروئن، 3 کلو آئس اور 18 کلو چرس برآمد کی گئی۔
سماعت کے دوران پولیس اور سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ منشیات کے خلاف “نشہ اب نہیں” کے عنوان سے ایک مہم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت آگاہی سیمینارز منعقد کیے گئے اور تعلیمی اداروں میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
جسٹس انعام منہاس نے ان اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں قائم کی جانے والی کمیٹیوں کی کارکردگی کی باقاعدہ رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں کسی بھی قسم کی سرگرمی یا چیز کی آمد کے لیے پرنسپل کی پیشگی اجازت لازمی قرار دی جائے۔
عدالت نے مزید کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے کئی طریقے ہیں، اس لیے جو افراد منشیات سمیت پکڑے جائیں، ان سے یہ بھی تفتیش کی جائے کہ وہ کن کن تعلیمی اداروں کو منشیات سپلائی کرتے رہے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ ایس او پیز میں واضح طور پر شامل کیا جائے کہ اگر کسی تعلیمی ادارے سے منشیات کی شکایت موصول ہوئی تو اس کے پرنسپل اور مالک کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
جسٹس انعام منہاس نے پولیس کو حکم دیا کہ جن تعلیمی اداروں کے اطراف سے مقدمات درج ہوئے ہیں، وہاں جا کر تحقیقات کریں اور اس کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اسکول، کالج یا یونیورسٹی تک منشیات پہنچتی ہیں تو اس کی ذمہ داری ادارے کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں میں کی جائے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔