اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اکتوبر2025ء) سپریم کورٹ نے منشیات کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم لال اکبر کی درخواست پر سماعت کے بعد معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو لارجر بینچ تشکیل دینے کے لیے بھجوا دیا۔سماعت جمعرات کو جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے منشیات کے مقدمات میں ٹیسٹنگ کے طریقہ کار، قانونی پہلوؤں اور سزا کے تعین سے متعلق مختلف نکات پر سوالات اٹھائے۔

وکیل اے این ایف نے مؤقف اختیار کیا کہ چرس برآمدگی کے بعد ٹیسٹ کرانے کا طریقہ کار 2021 سے تبدیل ہو چکا ہے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ پہلے ایک کلو چرس برآمدگی ثابت ہونے پر کتنی سزا دی جاتی تھی؟ملزم کے وکیل شازیب خان نے جواب دیا کہ ایسے مقدمات میں ایک سے سات سال تک قید کی سزا دی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ ملزم سے برآمد ہونے والے چرس کے تمام پیکٹس کے الگ الگ ٹیسٹ نہیں کرائے گئے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ایسے کیسز کی وجہ سے ہزاروں لوگ جیلوں میں قید ہیں۔ کیا کمرہ عدالت میں کوئی چرس کا ماہر (ایکسپرٹ) موجود ہے؟ آپ کا یہ کیس ہمیں پریشان کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے معاملے پر پہلے بھی تین رکنی بینچ کا فیصلہ موجود ہے، اس لیے ہم یہ کیس لارجر بینچ کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا رہے ہیں۔واضح رہے کہ لال اکبر کو 2014 میں چرس برآمدگی کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جسے بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

طلاق 90 روز کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت "تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے۔

 چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے محمد حسن سلطان کی طلاق سے متعلق پٹیشن نمٹاتے ہوئے کہا کہ  اگر خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلا شرط تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی مکمل طور پر حاصل ہے۔

قومی اسمبلی کی سب کمیٹی برائے دفاع نےCarriage By Air Act ترمیمی بل 2025ء کی منظوری دے دی

 عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا 7 اکتوبر 2024کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کہا فریقین نے 2016 میں شادی کی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت خاوند نے بیوی (مورِیل شاہ) کو بلا شرط حقِ طلاق تفویض کیا تھا۔ 

بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7 (1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 90 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے 10اگست 2023 کو یہ کارروائی واپس لے لی جس پر چیئرمین یونین/ آربیٹریشن کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • انتخابی نظام غیر اسلامی، 36 سال پرانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر 
  • انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر
  • انتخابی نظام  کو غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ برسوں بعد سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
  • سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری
  • انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
  • طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے: سپریم کورٹ
  • آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو نہیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی
  • طلاق 90 روز کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ
  • وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا
  • وفاقی آئینی عدالت: آئندہ ہفتے 3 بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے