سردی سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
سردیوں کے موسم میں صحت کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت اہم ہے، کیونکہ ٹھنڈک کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی اور نمونیا جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سب سے پہلے، گرم کپڑے پہننا بنیادی ضرورت ہے۔ جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنے والے لباس، جیسے جرسی، کوٹ، موزے، دستانے اور ٹوپی پہننے سے سردی کے اثرات کم ہوتے ہیں۔
گھر کو گرم رکھنے کے لیے ہیٹر یا دیگر محفوظ ذرائع کا استعمال کریں، لیکن وینٹیلیشن کا خیال ضرور رکھیں تاکہ دم گھٹنے سے بچا جا سکے۔ خوراک میں گرم اشیاء جیسے یخنی، سوپ، خشک میوہ جات اور شہد کو شامل کریں، کیونکہ یہ جسم کو توانائی اور حرارت فراہم کرتے ہیں۔
زیادہ سے زیادہ پانی پینا بھی ضروری ہے تاکہ جسم میں نمی کی کمی نہ ہو۔ بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ وہ سردی سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
باہر نکلنے سے قبل موسم کی شدت دیکھ کر مناسب تیاری کریں اور اگر ممکن ہو تو شدید سردی میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ان احتیاطی تدابیر سے ہم نہ صرف خود کو بلکہ اپنے پیاروں کو بھی سردی کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔