عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عدالت پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سہیل آفریدی کو جیل کے دورے کے دوران عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے قید ہیں اور اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں اور ان پر 9 مئی کے احتجاج سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وہ کل تقریباً دو گھنٹے جیل کے باہر انتظار کرتے رہے، پھر واپس لوٹ گئے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کابینہ کا اعلان عمران خان سے مشاورت اور ان کی رائے لینے کے بعد کریں گے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے اڈیالہ کے دورے کے منصوبے سے پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا ۔لیکن کوئی جواب نہیں ملا، اور جب انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو فون کر کے ملاقات میں سہولت دینے کی درخواست کی تو انہوں نے بھی جواب نہیں دیا۔سہیل آفریدی کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن کے مطابق بطور وزیرِ اعلیٰ وہ آئینی طور پر صوبے کے نظم و نسق کے ذمہ دار ہیں اور ان پر صوبائی حکومت اور کابینہ کی تشکیل سے متعلق ’انتہائی اہم اور حساس معاملات‘ پر عمران خان سے ’رہنمائی اور ہدایات‘ حاصل کرنے کی ’قانونی اور اخلاقی ذمہ داری‘ ہے۔یہ درخواست وفاقی سیکریٹری وزارتِ داخلہ، سیکریٹری محکمہ داخلہ پنجاب، انسپکٹر جنرل پنجاب جیل خانہ جات اور سنٹرل جیل اڈیالہ، راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف دائر کی گئی۔وکیل سید علی بخاری کے ذریعے دائر اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے 15 اکتوبر 2025 کو وزارت داخلہ اور محکمہ داخلہ پنجاب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے سرکاری خط کے ذریعے رجوع کیا تھا، جو دونوں دفاتر کو ’ باقاعدہ طور پر موصول‘ ہو گیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے علاوہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کو بھی خط لکھا، جس میں عمران خان سے ملاقات کے انتظامات کرنے کی درخواست کی۔نجی نیوز کو موصول خط کے مطابق عوامی مفاد میں یہ ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کی اڈیالہ جیل، راولپنڈی میں متعلقہ حکام کی نگرانی میں وقتاً فوقتاً ملاقات کی اجازت دی جائے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 4 کروڑ 50 لاکھ آبادی کے حامل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ جس کے نظم و نسق، عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ، امن و امان، صوبائی کابینہ کی تشکیل، صوبے کو درپیش سنگین معاشی چیلنجز اور اہم پالیسی امور سے متعلق ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ ’ان معاملات سمیت دیگر اہم امور پر عمران خان سے رہنمائی حاصل کرنے کی شدید ضرورت ہے، جن میں وفاق اور دیگر صوبوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بعض اہم معاملات بھی شامل ہیں۔ خط میں مزید کہا گیا کہ ’رہنمائی حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔یہاں تک کہ فی الحال صوبہ پنجاب نے بین الصوبائی تجارت، یعنی گندم وغیرہ کو روک رکھا ہے۔ الگ سے ایک پوسٹ ایکس پر کی گئی.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عمران خان سے ملاقات سہیل آفریدی نے انہوں نے کہا گیا
پڑھیں:
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
سٹی 42: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی ۔ خیبرپختونخوا میں امن عامہ کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا ۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے وفاقی وزیر داخلہ آگاہ کیا
وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ۔ دونوں رہنماؤں کا دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
محسن نقوی نے کہا خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے
لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔
محسن نقوی نے کہا وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔