سوشل میڈیا پر انتشار اور جعلی تصاویر، اے آئی بیسڈ پروپیگنڈا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ جعلی تصاویر گردش کر رہی ہیں جنہیں پروپیگنڈا مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے دعووں کی بنیاد پر حکومت کی طرف سے خدشات کا اظہار منطقی ہے کیونکہ جھوٹی یا منظرناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والا مواد عوام میں خوف، بدامنی اور غلط فہمیاں پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ خبردار کرنے والی بات یہ ہے کہ ایسے مواد کو فوری طور پر حقیقت تسلیم نہ کیا جائے؛ تصدیق کے بغیر شیئرنگ سے صورتحال مزید بھڑک سکتی ہے۔
ذرائع ابلاغی اور حکومتی بیانات کے مطابق سرحدی بندش کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ادارے اضافی چوکیوں، موبائل چیک پوسٹس اور نگرانی بڑھا رہے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت ممکنہ پروپیگنڈا اور جعلی مواد کے خلاف قانونی کارروائیوں کے لیے فریم ورک مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم، اس بارے میں تفصیلی قانونی راستہ کار اور اس کے معاشی و سفارتی مضمرات کی تصدیق افسران سے براہِ راست بیانات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔