غزہ سے رہائی پانیوالے ایک اسرائیلی قیدی نے فلسطینی مزاحمت کے "شیڈو یونٹ" (وحدة الظل - كتائب القسام) کیجانب سے انجام پانیوالی فریبی کارروائی کا انکشاف کیا ہے جسمیں حماس کیخلاف ایک فرضی مظاہرے کے دوران اسرائیلی قیدیوں کی خفیہ منتقلی کا کام انجام دیا گیا تاہم اسرائیلی و سعودی میڈیا نے "حماس مخالف مظاہرے" پر جشن منایا تھا! اسلام ٹائمز۔ یہ تقریباً 7 ماہ قبل کی بات ہے کہ جب سعودی چینل العربیہ نیٹورک اور اسرائیلی میڈیا نے انتہائی ذوق و شوق اور جوش و خروش کے ساتھ غزہ میں "حماس مخالف مظاہرے" کے انعقاد کی تفصیلی رپورٹس شائع کرتے ہوئے طویل ویڈیو کلپس پر مبنی وسیع کوریج دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس احتجاجی مظاہرے کو سعودی و اسرائیلی میڈیا کی جانب سے "مزاحمت مخالف عوامی احتجاج" گردانتے ہوئے انتہائی اہمیت اور وسیع کوریج دی گئی تھی تاہم اب فیلڈ رپورٹس اور فلسطینی مزاحمت کی جانب سے رہا کئے جانے والے ایک اسرائیلی فوجی نے "حماس مخالف احتجاج" کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ آزاد شدہ اسرائیلی قیدی کا کہنا ہے کہ مذکورہ مظاہرہ "نمائشی" تھا جسے خود حماس نے ہی ترتیب دیا تھا جس سے متعلق اپنے مقاصد کو حماس نے 100 فیصد حاصل کیا ہے۔
  عرب میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی رپورٹس کے مطابق حماس کی قید سے رہائی پانے والے اسرائیلی فوجی نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 7 ماہ قبل غزہ میں منعقد ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرہ؛ کہ جسے عبری میڈیا نے "حماس کے خلاف عوامی احتجاج" کا نام دیا تھا، درحقیقت کتائب القسام بریگیڈز کے ساتھ وابستہ "شیڈو یونٹ" کی قیادت میں انجام پانے والی "دشمن کو فریب دینے کی ایک جدید ترین کارروائی" تھا۔ مذکورہ اسرائیلی فوجی کہ جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور جسے نئے قیدیوں کے تبادلے کے دوران رہا کیا گیا ہے، نے مزید انکشاف کیا ہے کہ خود حماس کی شیڈو یونٹ کے اراکین بھی اس دوران احتجاجی مظاہرین کے درمیان موجود تھے جنہوں نے بیت لاہیا و بیت حانون سے لے کر خان یونس تک کے اس مارچ کے تمام رستوں کا احاطہ کر رکھا تھا جبکہ اس دوران متعدد اسرائیلی قیدیوں کو بھی خفیہ طور ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کیا گیا تھا۔ آزاد شدہ اسرائیلی قیدی کے مطابق اس احتجاجی مظاہرے کے دوران کچھ اسرائیلی قیدیوں کہ جن کے چہرے ڈھانپ دیئے گئے تھے یا انہیں نقاب پہنا دی گئی تھی، کو کھلے آسمان تلے، دور واقع ایک گھر میں لے جایا گیا جہاں موجود سرنگوں کے ایک پیچیدہ جال کے ذریعے وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ گئے جبکہ اسرائیلی ڈرون سمیت پیشرفتہ جاسوسی کا پورا کا پورا صیہونی نظام ان قیدیوں کا پتہ لگانے میں ناکام رہا۔ اسرائیلی فوجی نے مزید کہا کہ اسرائیلی قیدیوں نے اس دوران حتی نعرے بھی لگوائے اور عوامی احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی جبکہ ان میں سے بعض کو کندھوں پر بھی اٹھایا گیا تاکہ وہ مکمل طور پر احتجاجی ماحول میں گھل مل سکیں۔
واضح رہے کہ یہ مزاحمتی آپریشن نہ صرف اُن اسرائیلی قیدیوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ جن کی تلاش میں کل 365 مربع کلومیٹر کی حامل غزہ کی پٹی میں امریکہ و اسرائیل کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک کے دسیوں "جدید ترین جاسوس طیارے" بھی مہینوں سے سینکڑوں گھنٹوں کی پروازوں میں مصروف تھے، بلکہ اس کا ایک دوسرا مقصد "غزہ کی پٹی کے اندر موجود قابض صیہونی رژیم کے درجنوں جاسوسوں کی شناخت" بھی تھا کہ جن میں ابو شباب اور دغمش نامی گروہوں کے ساتھ وابستہ شر پسند عناصر بھی شامل ہیں، جن کے ساتھ بعد ازاں آہنی ہاتھوں کے ساتھ نپٹا گیا۔ القسام بریگیڈ کی شیڈو یونٹ کو اب غزہ کو جاسوسوں اور غداروں سے پاک کرنے کا کام سونپا گیا ہے جبکہ اس کاوئنٹر انٹیلیجنس آپریشن کے بارے عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مزاحمتی آپریشن نے دنیا بھر کی جدید ترین انٹیلیجنس سروسز کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی قیدیوں اسرائیلی فوجی اسرائیلی قیدی حماس مخالف شیڈو یونٹ کے ساتھ کیا ہے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد