"حماس مخالف مظاہرہ" دشمن کو دھوکہ دینے کا مزاحمتی منصوبہ تھا، اسرائیلی قیدی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
غزہ سے رہائی پانیوالے ایک اسرائیلی قیدی نے فلسطینی مزاحمت کے "شیڈو یونٹ" (وحدة الظل - كتائب القسام) کیجانب سے انجام پانیوالی فریبی کارروائی کا انکشاف کیا ہے جسمیں حماس کیخلاف ایک فرضی مظاہرے کے دوران اسرائیلی قیدیوں کی خفیہ منتقلی کا کام انجام دیا گیا تاہم اسرائیلی و سعودی میڈیا نے "حماس مخالف مظاہرے" پر جشن منایا تھا! اسلام ٹائمز۔ یہ تقریباً 7 ماہ قبل کی بات ہے کہ جب سعودی چینل العربیہ نیٹورک اور اسرائیلی میڈیا نے انتہائی ذوق و شوق اور جوش و خروش کے ساتھ غزہ میں "حماس مخالف مظاہرے" کے انعقاد کی تفصیلی رپورٹس شائع کرتے ہوئے طویل ویڈیو کلپس پر مبنی وسیع کوریج دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس احتجاجی مظاہرے کو سعودی و اسرائیلی میڈیا کی جانب سے "مزاحمت مخالف عوامی احتجاج" گردانتے ہوئے انتہائی اہمیت اور وسیع کوریج دی گئی تھی تاہم اب فیلڈ رپورٹس اور فلسطینی مزاحمت کی جانب سے رہا کئے جانے والے ایک اسرائیلی فوجی نے "حماس مخالف احتجاج" کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ آزاد شدہ اسرائیلی قیدی کا کہنا ہے کہ مذکورہ مظاہرہ "نمائشی" تھا جسے خود حماس نے ہی ترتیب دیا تھا جس سے متعلق اپنے مقاصد کو حماس نے 100 فیصد حاصل کیا ہے۔
عرب میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی رپورٹس کے مطابق حماس کی قید سے رہائی پانے والے اسرائیلی فوجی نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 7 ماہ قبل غزہ میں منعقد ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرہ؛ کہ جسے عبری میڈیا نے "حماس کے خلاف عوامی احتجاج" کا نام دیا تھا، درحقیقت کتائب القسام بریگیڈز کے ساتھ وابستہ "شیڈو یونٹ" کی قیادت میں انجام پانے والی "دشمن کو فریب دینے کی ایک جدید ترین کارروائی" تھا۔ مذکورہ اسرائیلی فوجی کہ جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور جسے نئے قیدیوں کے تبادلے کے دوران رہا کیا گیا ہے، نے مزید انکشاف کیا ہے کہ خود حماس کی شیڈو یونٹ کے اراکین بھی اس دوران احتجاجی مظاہرین کے درمیان موجود تھے جنہوں نے بیت لاہیا و بیت حانون سے لے کر خان یونس تک کے اس مارچ کے تمام رستوں کا احاطہ کر رکھا تھا جبکہ اس دوران متعدد اسرائیلی قیدیوں کو بھی خفیہ طور ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کیا گیا تھا۔ آزاد شدہ اسرائیلی قیدی کے مطابق اس احتجاجی مظاہرے کے دوران کچھ اسرائیلی قیدیوں کہ جن کے چہرے ڈھانپ دیئے گئے تھے یا انہیں نقاب پہنا دی گئی تھی، کو کھلے آسمان تلے، دور واقع ایک گھر میں لے جایا گیا جہاں موجود سرنگوں کے ایک پیچیدہ جال کے ذریعے وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ گئے جبکہ اسرائیلی ڈرون سمیت پیشرفتہ جاسوسی کا پورا کا پورا صیہونی نظام ان قیدیوں کا پتہ لگانے میں ناکام رہا۔ اسرائیلی فوجی نے مزید کہا کہ اسرائیلی قیدیوں نے اس دوران حتی نعرے بھی لگوائے اور عوامی احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی جبکہ ان میں سے بعض کو کندھوں پر بھی اٹھایا گیا تاکہ وہ مکمل طور پر احتجاجی ماحول میں گھل مل سکیں۔
واضح رہے کہ یہ مزاحمتی آپریشن نہ صرف اُن اسرائیلی قیدیوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ جن کی تلاش میں کل 365 مربع کلومیٹر کی حامل غزہ کی پٹی میں امریکہ و اسرائیل کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک کے دسیوں "جدید ترین جاسوس طیارے" بھی مہینوں سے سینکڑوں گھنٹوں کی پروازوں میں مصروف تھے، بلکہ اس کا ایک دوسرا مقصد "غزہ کی پٹی کے اندر موجود قابض صیہونی رژیم کے درجنوں جاسوسوں کی شناخت" بھی تھا کہ جن میں ابو شباب اور دغمش نامی گروہوں کے ساتھ وابستہ شر پسند عناصر بھی شامل ہیں، جن کے ساتھ بعد ازاں آہنی ہاتھوں کے ساتھ نپٹا گیا۔ القسام بریگیڈ کی شیڈو یونٹ کو اب غزہ کو جاسوسوں اور غداروں سے پاک کرنے کا کام سونپا گیا ہے جبکہ اس کاوئنٹر انٹیلیجنس آپریشن کے بارے عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مزاحمتی آپریشن نے دنیا بھر کی جدید ترین انٹیلیجنس سروسز کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی قیدیوں اسرائیلی فوجی اسرائیلی قیدی حماس مخالف شیڈو یونٹ کے ساتھ کیا ہے
پڑھیں:
شام کو اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کا پورا حق ہے، یمن
اپنے ایک جاری بیان میں انصار اللہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ تاریخ سے سبق نہیں لیتے اور اپنے دفاعی حق سے دستبردار ہو جاتے ہیں ان کا انجام بہت برا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی مقاومتی تحریک "انصار اللہ" کے پولیٹکل آفس نے اعلان کیا کہ وہ "دمشق" کے مضافات میں "بیت جن" پر صیہونی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے جاری بیان میں کہا کہ حالیہ صیہونی حملہ، شامی سالمیت کی واضح خلاف ورزی ہے جس کا مقصد قبضے کے دائرہ کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس علاقے کے باشندوں کی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف شجاعانہ مزاحمت کو سراہتے ہیں۔ صرف جہاد اور مقاومت ہی دشمن سے نمٹنے کا ہتھیار ہیں۔ حملہ آوروں سے نرم رویہ ان کے تسلط پسندانہ منصوبوں کو نہیں روک سکتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ شام کو تمام موجودہ وسائل کے ساتھ صیہونی دراندازی کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم جو لوگ تاریخ سے سبق نہیں لیتے اور اپنے دفاعی حق سے دستبردار ہو جاتے ہیں ان کا انجام بہت برا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک کو بھی ان حملوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے جو پوری امت اسلامیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔