اکشے کمار کی زندگی کی اہم شخصیت انتقال کرگئیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
بھارتی فلم انڈسٹری کی سینیئر اداکارہ اور مشہور رقاصہ مدھومتی انتقال کرگئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 87 سالہ اداکارہ مدھومتی، جن کا ہیلن جیسی اداکاراؤں سے موازنہ کیا جاتا تھا، نے اپنی دلکش اداکاری اور منفرد رقص کی وجہ سے سنیما میں ایک خاص مقام حاصل کیا تھا۔
1938 میں مہاراشٹر میں پیدا ہونے والی مدھومتی نے 1957 میں ایک غیر ریلیز ماراٹھی فلم سے کیریئر کا آغاز کیا اور بھرتنٹیام، کتھک، منیپوری اور کتھکلی جیسے کلاسیکل ڈانس کی تربیت حاصل کی تھی۔
وہ ’آنکھیں‘، ’ٹاور ہاؤس‘، ’شکاری‘، ’مجھے جینے دو‘، ’امر اکبر انتھونی‘ اور ’چھوٹی بہو‘ جیسی فلموں میں اپنی جاندار پرفارمنسز کے لیے مشہور تھیں۔ مدھومتی کی موت پر بالی ووڈ کے فنکاروں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
My first and forever guru.
اکشے کمار نے سوشل میڈیا پر ایک پرانی تصویر شیئر کرتے ہوئے مدھومتی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’میری پہلی اور ہمیشہ کی گرو جی۔ ڈانس کی ہر بات آپ کے قدموں میں بیٹھ کر سیکھی، مدھومتی جی۔ میرے رقص کی ہر ادا اور تاثر میں آپ کی یاد رہے گی۔‘ وندو درا سنگھ نے بھی انہیں اپنا استاد قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
یاد رہے کہ مدھومتی نے ممبئی میں اپنی ڈانس اکیڈمی چلائی اور اکشے کمار، گوندا سمیت کئی ستاروں کو ڈانس کرنا سکھایا۔
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا اور اسرائیلی رجیم کو اپنی جارحیتوں کا جواب دینا ہوگا، ایران
نمائندے نے ایران کی صنعت پر عائد یکطرفہ قہری اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اور ان کے سرحد پار اثرات نے بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور اور یونیدو کے مقاصد کے سراسر منافی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب میں ایران کے سفیر نے اقوام متحدہ کی صنعتی ترقیاتی تنظیم (یونیدو) کی جنرل کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے امریکا اور صہیونی رجیم کی جانب سے ایران کے صنعتی ڈھانچے پر حملے کی جانب اشارہ کیا اور زور دیا کہ جارح قوتوں کو اپنی جنایات کا جواب دینا ہوگا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے شعبۂ خارجہ امور کے مطابق، علیرضا عنایتی، سعودی عرب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر، نے 5 آذر کو یونیدو کی 21ویں جنرل کانفرنس میں ایران کی نمائندگی کرتے ہوئے گروپ 77 اور چین کے بیان، نیز ہم فکر ممالک کے گروپ کے بیان میں یونیدو کے رکن ممالک پر یکطرفہ زورآور اقدامات کی مذمت کی گئی تھی، اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ عنایتی نے زور دیا کہ صہیونی رژیم نے امریکا کی شراکت سے ایران کے عوام اور صنعتی تنصیبات پر حملہ کیا، جو ایک کھلی جارحیت تھی اور اس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد، جن میں خواتین، بچے، سائنس دان اور صنعتی شعبے کے کارکنان شامل ہیں، شہید ہوئے یا زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو ان جنایات کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ایران کے نمائندے نے ایران کی صنعت پر عائد یکطرفہ قہری اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اور ان کے سرحد پار اثرات نے بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور اور یونیدو کے مقاصد کے سراسر منافی ہے۔ آخر میں ایرانی سفیر نے پائیدار صنعتی ترقی کے فریم ورک کے تحت یونیدو کی سرگرمیوں کے لیے ایران کی مستقل اور بھرپور حمایت پر زور دیا۔