ٹرمپ کو سنبھالنا صرف پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو آتا ہے، برطانوی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی بہت زیادہ تعریف کی، ایک موقعے پر ٹرمپ نے اسٹیج کی جانب واپس آنا چاہا تو شہباز شریف نے انہیں روک دیا اور اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سنبھالنا صرف پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو آتا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ شرم الشیخ میں ٹرمپ نے کئی عالمی رہنماؤں کو زچ کیا، اطالوی وزیراعظم کے حسن کی تعریف کی، برطانوی وزیراعظم کو اشارہ دیا کہ جیسے وہ انہیں گفتگو کے لیے بلا رہے ہیں، مگر پھر خود مائیک سنبھال کر انہیں شرمندہ کر دیا۔ اخبار نے لکھا کہ واحد رہنماء جنہیں معلوم تھا کہ صدر ٹرمپ کو کیسے سنبھالنا ہے، وہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف تھے۔ دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی بہت زیادہ تعریف کی، ایک موقعے پر ٹرمپ نے اسٹیج کی جانب واپس آنا چاہا تو شہباز شریف نے انہیں روک دیا اور اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھا۔ گارڈین کے مطابق ٹرمپ اس تقریب میں 2 گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے پہنچے، پہلے انہوں نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زائد سے ملاقات پر ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بہت سا کیش ہے۔
پھر اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی کے حسن کی تعریف کی، ہنگری کے صدر وکٹر اور بان کے بارے میں کہا کہ انہیں بہت سے لوگ پسند نہیں کرتے، مگر میں انہیں پسند کرتا ہوں اور اہمیت بھی صرف میری ہی ہے۔ برطانوی وزیراعظم اسٹارمر کے بارے میں کہا کہ وہ کہاں ہیں، ہمیشہ کی طرح میرے پیچھے کھڑے ہیں۔ اسٹارمر سمجھے کہ انہیں بولنے کی دعوت دی جا رہی ہے، مگر ٹرمپ نے ایک بار پھر مائیک پر گفتگو شروع کی تو اسٹارمر کو شرمندہ سا ہو کر واپس اپنی جگہ پر جانا پڑا۔ کینیڈا کے وزیراعظم کو شکایت تھی کہ ٹرمپ نے انہیں وزیراعظم کے بجائے صدر کیوں کہا، ٹرمپ نے ان سے کہا کہ شکر کرو میں نے تمہیں کینیڈا کا گورنر نہیں کہا۔ گارڈین کے مطابق واحد رہنماء جو ٹرمپ کو سنبھالنے میں کامیاب رہے، وہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف شہباز شریف نے تعریف کی لکھا کہ کہا کہ
پڑھیں:
داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
اوقاف بورڈ نے زائرین کے نذرانوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزام میں داتا دربار کے 5 سینئر افسران کو سزا سنادی۔
ملزمان میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد، سابق مینجر طاہر مقصود، سابق اسٹینو گرافر ثاقب نسیم سمیت دیگر ملازمین شامل ہیں۔
محکمہ اوقاف بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے انکوائری کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو انکے اصل مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لئے کم درجے کے عہدے (BS-15) اور پے اسکیل پر تنزلی کا حکم دیا ہے۔
شیخ جمیل احمد کی 5 سال کی پچھلی سروس بھی ضبط کر لی گئی ہے، انہیں 9,265,800 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انکے سروس ریکارڈ میں منفی اندراج بھی کیا جائے گا، مستقبل میں اُنہیں کسی بھی کیش ہینڈلنگ آفس یا فیلڈ ریونیو پوسٹ پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسی طرح سابق مینیجر داتا دربار طاہر مقصود کو سرکاری ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے، اسکے ساتھ 11,324,867 روپے (ان کا 55 فیصد واجب الادا حصہ) کی انفرادی مالیاتی ریکوری اور مستقبل میں فیلڈ پوسٹنگز پر مستقل پابندی عائد کی گئی ہے۔
سابق اسٹینو گرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کو 4 سال کی مدت کےلئے پچھلی سروس ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے اور ان پر انتظامی پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی خفیہ برانچ ایڈمنسٹریٹر دفاتر اور حساس دفاتر یا سی سی ٹی وی سیکیورٹی سے متعلقہ سائنمنٹس پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سابق کیئر ٹیکر نور حسین کو تین سال کی مخصوص مدت کےلئے سالانہ ترقیاں روکنے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں داتا دربار یا کسی بھی بڑے کیش جنریٹنگ مزار پر مستقبل میں تعینات کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سابق کیئر ٹیکر محمد شریف اگرچہ اس مخصوص انکوائری رپورٹ کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں لیکن مزار پر ایک زائر سے نقدی چوری کرنے کی وائرل ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکے خلاف فوری طور پر علیحدہ اور آزادانہ تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انہیں داتا دربار یا کسی بھی دوسرے بڑے مزار پر تعیناتی سے مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدس مذہبی اداروں کے اندرکرپشن عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔