حماس نے خود ہتھیار نہ ڈالے تو ہم طاقت کے ذریعے غیرمسلح کردیں گے؛ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک دے اور معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ حماس کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم کوئی کھیل نہیں کھیل رہے۔ ہتھیاروں کا معاملہ محدود وقت میں حل ہوجانا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول یہ پیغام ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے مصر میں ہونے والی ملاقات میں حماس کے نمائندے خلیل الحیا تک بھی پہنچایا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ حماس نے خود امریکی نمائندوں کو بتایا تھا کہ وہ امن معاہدے کے نفاذ کے بعد ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر حماس نے ایسا نہ کیا تو ہم انھیں خود ہتھیاروں سے محروم کردیں گے۔ چاہے اس کے لیے طاقت کا ہی استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر شکوہ کیا کہ بیس زندہ مغوی واپس آچکے ہیں لیکن کام ابھی مکمل نہیں ہوا کیونکہ تمام لاشیں واپس نہیں کی گئیں۔ حماس نے اب تک صرف چند لاشیں حوالے کی ہیں جن کی شناخت بھی مکمل نہیں ہو سکی۔
ٹرمپ کے بقول حماس نے ثالثوں کو بتایا تھا کہ ان کے پاس درجنوں لاشیں موجود ہیں مگر اب ایسا لگتا ہے کہ تعداد اس سے کم ہے۔ میں تمام لاشوں کی واپسی چاہتا ہوں اور یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
صدر ٹرمپ نے حماس کی جانب سے جنگ بندی کے بعد مبینہ طور پر غداری کے الزام میں افراد کی ہلاکتوں پر بھی ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ حماس نے کچھ خطرناک گروہوں کا خاتمہ کیا ہے اور یہ بات مجھے زیادہ پریشان نہیں کرتی، کیونکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسے اقدامات دیکھے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ اپنے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں، جس میں غزہ کی تعمیر نو، تکنیکی حکومت اور بین الاقوامی نگرانی شامل ہوگی۔
تاہم حماس ابھی تک اس دوسرے مرحلے پر آمادہ نہیں ہوئی اور مزید مذاکرات کی خواہاں ہے۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحیرہ اسود میں یوکرین کے ڈرونز حملوں روسی ٹینکرز تباہ، ویڈیو وائرل
بحیر اسود میں روسی شیڈو فلیٹ کے 2 آئل ٹینکرز، Virat اور Kairos، ہفتہ اور جمعہ کو غیر انسانی سمندری ڈرونز اور دھماکوں کے ذریعے شدید نقصان کا شکار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟
ترک حکام کے مطابق، جمعہ کی رات کو Kairos، جو گیمبیا کے پرچم تلے Novorossiysk روسی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا، 28 ناٹیکل میل (51 کلومیٹر) ترک ساحل سے دور، ’خارجی اثرات‘ کے باعث آگ پکڑ گیا۔ ٹینکر کے عملے کے تمام 25 افراد کو ترک کوسٹ گارڈ نے محفوظ طور پر نکال لیا۔
اس کے علاوہ گیمبیا کے پرچم تلے چلنے والے ٹینکر Virat نے جمعہ کی شب پہلے دھماکے برداشت کیے تھے اور ہفتہ کی صبح اسے دوبارہ غیر انسانی سمندری ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ای ایف پی کے مطابق یوکرین نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سیکیورٹی سروس آف یوکرین (SBU) اور یوکرین نیوی نے مل کر یہ حملہ انجام دیا اور جدید Sea Baby نیول ڈرونز کے ذریعے دونوں ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پوٹن امن منصوبے پر بات کو تیار لیکن یوکرین کے لیے وارننگ
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ روس کی آئل ٹرانسپورٹ پر ایک سنگین دھچکہ ہے، اور ٹارگٹ کیے گئے جہاز تقریباً 70 ملین ڈالر کے تیل لے جا سکتے تھے۔
مغربی پابندیوں کے تحت ٹینکرز
دونوں ٹینکرز مغربی پابندیوں کے تحت تھے کیونکہ انہوں نے روسی تیل کی ترسیل کی تھی، جو یوکرین پر حملے کے بعد عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ یوکرین نے عالمی سطح پر روس کی شیڈو فلیٹ پر سخت اقدامات کی بھی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ بحیرہ اسود (بلیک سی) میں یہ کشیدگی روس اور یوکرین کے درمیان بحری تناؤ کے دوران بڑھتی جا رہی ہے، اور سمندر میں تیرتے ہوئے مائنز نے بھی متعدد خطوں کو متاثر کیا ہے، حتیٰ کہ بوسفورس تک۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بحیرہ اسود بلیک سی ترکیہ ڈرون حملہ روس یوکرین