سی ایس ایس امتحان 2024 کے نتائج کا اعلان ہو گیا، کامیابی کی شرح2.48 فیصد رہی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سی ایس ایس امتحان 2024 کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا جس کے مطابق کامیابی کی شرح صرف 2 اعشاریہ 48 فیصد رہی۔ایکسپریس نیوز کے مطابق فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس امتحان برائے 2024 کے نتائج کا اعلان کردیا جس کے مطابق امتحان میں 15 ہزار 602 امیدوار شریک تھے۔
اس میں سے صرف 229 امیدوار کامیاب ہوئے جن میں 119 مرد اور 110 خواتین شامل ہیں جبکہ صرف 397 امیدوار پہلے مرحلے کا ٹیسٹ پاس کرسکے تھے۔پہلی پوزیشن محمد شافع اعجاز، دوسری پوزیشن ثناء رسول جبکہ تیسری پوزیشن مومنہ اظہر نے حاصل کی۔
لاہور میں باپ کی کمسن بیٹی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ، چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا نوٹس، رپورٹ طلب کر لی
مزید :.ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، فافن
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے 23 نومبر کے ضمنی انتخابات سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، مبصرین نے پولنگ بوتھوں پر انتخابی عمل کو منظم اور پرامن پایا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں کی مسلسل خلاف ورزیاں سامنے آئیں، نتائج کی شفافیت میں خلا اور تشویشناک حد تک کم ووٹر ٹرن آؤٹ سامنے آیا۔
فافن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں پر کمزور عمل درآمد ایک مسلسل مسئلہ رہا، مشاہدے کے 238 پولنگ اسٹیشنوں کے قریب کم از کم 465 سیاسی جماعتوں کے کیمپس دیکھے گئے۔
رپورٹ کے مطابق مشاہدے کے 184 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی، 98 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں بیلٹ بکس کے تمام 4 مطلوبہ سیل درست حالت میں پائے گئے۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ 96 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں سیکریسی اسکرین درست طور پر نصب تھیں، مبصرین نے پولنگ بوتھس پر پولنگ کو منظم اور پُرامن پایا۔
رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران نے بیلٹ پیپر جاری کرنے کے درست طریقہ کار پر عمل کیا، مشاہدے کے 29 فیصد بوتھوں پر پریذائیڈنگ افسران نے پہلے سے بیلٹ پیپر پر دستخط کیے ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق مشاہدے کے 28 فیصد بوتھوں پر بیلٹ پیپر پہلے سے مہر شدہ تھے، یہ عمل غیرقانونی نہیں تاہم بیلٹ کے غلط استعمال کے خدشات بڑھا سکتے ہیں۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ 6 مشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیا، مشاہدہ کے 19 فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر فارم 45 کو باہر بھی آویزاں نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 19 فیصد اسٹیشنوں پر فارم 46 پولنگ ایجنٹس کو نہیں دیا گیا، 43 فیصد مشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس سے فارمز پر دستخط نہیں کروائے۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی ٹرن آؤٹ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے 23 فیصد تک کم رہا، صرف 1 حلقہ ایسا تھا، جہاں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ ریکارڈ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا، گنتی کے بعد انٹرویو کیے گئے تمام 137 پولنگ ایجنٹس نے گنتی کے عمل پر اطمینان ظاہر کیا۔