سی ایس ایس 2024 کے حتمی نتائج جاری ، کامیابی کی شرح 2.48 فیصد رہی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس 2024 کے حتمی نتائج جاری کر دیئے جس کے مطابق کامیابی کی شرح صرف 2 اعشاریہ 48 فیصد رہی۔
نتائج کے مطابق 15 ہزار سے زائد امیدواروں میں سے 387 امیدوار فائنل کوالیفائی کرگئے، کل 15 ہزار 602 امیدواروں نے تحریری امتحان میں شرکت کی، 397 امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب قرار پائے۔
مجموعی طور پر 387 امیدوار وائیوا کے بعد فائنل کوالیفائی کر گئے، فائنل کامیاب امیدواروں میں 207 مرد اور 180 خواتین شامل ہیں۔
مجموعی کامیابی کی شرح 2.
پہلی پوزیشن محمد شافع اعجاز، دوسری پوزیشن ثناء رسول جبکہ تیسری پوزیشن مومنہ اظہر نے حاصل کی۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
2024 میں صنفی تشدد کے 32 ہزار 617 کیسز، شیری رحمان کا اظہار تشویش
شیری رحمان : فائل فوٹوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے 2024 میں صنفی تشدد کے 32 ہزار 617 کیسز پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ اوسطاً 67 اغوا، 19 ریپ، 6 گھریلو تشدد اور 2 غیرت کے نام پر قتل رپورٹ ہو رہے ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ پنجاب میں 4,641 زیادتی کے کیسز میں صرف 0.4 فیصد کیسز میں سزا ملی، خیبر پختونخوا میں غیرت کے نام پر 134 قتل کے واقعات میں صرف 2 سزائیں ہوئیں، سندھ میں غیرت کےنام پر قتل کے 134، زیادتی کے 243، گھریلو تشدد کے375 کیسز میں ایک بھی سزا نہیں ہوئی۔
بلوچستان میں زیادتی کے 21 اور اغوا کے 185 کیسز میں ایک بھی سزا نہیں ہوئی، مجموعی طور پر 0.5 فیصد سزا اور 64 فیصد بریت کی شرح نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، ناقص تفتیش، کمزور پراسیکیوشن اور ادارہ جاتی خلا مجرموں کو کھلی چھٹی دے رہے ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے دو دن قبل شمالی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کیا تھا،
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں غیرت کے نام پر قتل کے 22 کیسز میں کوئی سزا نہ ہو سکی، ملک بھر میں 480 جی بی وی کورٹس کے باوجود 21,891 بیک لاگ 2023 کے آغاز میں موجود تھا۔
شیری رحمان نے کہا کہ سال 2023 میں 48,395 نئے کیسز دائر اور 30,631 نمٹائے گئے، مجموعی طور پر 0.5 فیصد سزا اور 64 فیصد بریت کی شرح نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، انسانی حقوق واچ کے مطابق 70 فیصد صنفی تشدد کے کیسز خوف اور بدنامی کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے ایک پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا جہاں قتل کرنے والے ملزم کو ہار پہنائے جا رہے تھے، اس حوالے سے 2004 سے قانون سازی ہو رہی ہے لیکن متاثرین کو انصاف نہیں مل رہا۔