سی ایس ایس امتحانات 2025: کامیابی کی شرح محض 2.48 فیصد رہی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) نے گریڈ 17 کی آسامیوں پر بھرتی کے لیے ہونے والےسی ایس ایس (CSS) مقابلے کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ رواں سال بھی یہ امتحان سخت ترین ثابت ہوا، جس میں کامیابی کا تناسب صرف 2.48 فیصد رہا۔
ملک بھر سے 15,602 امیدواروں نے تحریری امتحان میں حصہ لیا، لیکن ان میں سے صرف 397 امیدوار ہی تحریری مرحلہ پاس کر سکے۔ بعد ازاں زبانی امتحان (انٹرویو) کے دوران مزید 10 امیدوار ناکام ہو گئے، یوںحتمی طور پر 387 امیدوار کامیاب قرار پائے، جن میں207 مرد اور180 خواتین شامل ہیں۔
کمیشن نے ان کامیاب امیدواروں میں سے 119 مرد اور 110 خواتین کو مختلف سروس گروپس میں تعیناتی کے لیے منتخب کرنے کی سفارش کی ہے۔
یاد رہے کہ سی ایس ایس امتحان کا بنیادی مقصد حکومت کے زیر انتظام گریڈ 17 کی پوسٹوں پر باصلاحیت افراد کی بھرتی ہے۔ کامیاب امیدواروں کو پاکستان کے مختلف سروسز گروپس میں تعینات کیا جاتا ہے، جن میںپاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS)،پاکستان کسٹمز سروس،فارن سروس آف پاکستان (FSP)،پاکستان پولیس سروس (PSP) سمیت وفاق کے تحت 12 اہم شعبے شامل ہیں۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ضمنی انتخابات: قومی و صوبائی اسمبلی کے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے متعدد حلقوں سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔
نوٹی فکیشن کے ذریعے قومی اسمبلی کے 5 جب کہ پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں کے نتائج کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام نوٹیفکیشنز سرکاری طور پر گزیٹ آف پاکستان میں شائع کرنے کی ہدایت جاری کی جا چکی ہے، تاکہ ان کی قانونی حیثیت مکمل طور پر قائم ہو سکے۔
قومی اسمبلی کے حلقوں میں این اے 18 ہری پور سے بابر نواز خان، این اے 104 فیصل آباد سے دانیال احمد، این اے 129 لاہور سے محمد نعمان، این اے 143 ساہیوال سے محمد طفیل اور این اے 185 ڈیرہ غازی خان سے محمود قادر خان کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
فیصل آباد کے حلقہ این اے 96 کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس ہے جس میں طلال چوہدری کے بھائی بلال چوہدری کا معاملہ زیرِ التوا ہے۔ الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کیس کا فیصلہ ہونے تک این اے 96 کا نوٹیفکیشن روکا جائے گا۔
پنجاب اسمبلی کی نشستوں میں پی پی 73 سرگودھا سے میاں سلطان علی رانجھا، پی پی 87 میانوالی سے علی حیدر نور خان نیازی، پی پی 98 فیصل آباد سے اعزاز علی تبسم، پی پی 115 فیصل آباد سے محمد طاہر پرویز، پی پی 116 فیصل آباد سے احمد شہریار، پی پی 203 ساہیوال سے محمد حنیف اور پی پی 269 مظفرگڑھ سے میاں علمدار عباس قریشی کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ان انتخابات کو الیکشن کمیشن نے مجموعی طور پر شفاف قرار دیا ہے اور نتائج کی تصدیق کے بعد امیدواروں کی کامیابی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی مراحل کی تکمیل اور باضابطہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد ان امیدواروں کی اسمبلیوں میں شمولیت کا عمل جلد مکمل ہوگا۔ انتخابی عمل کے دوران ضابطہ اخلاق کی پابندی کے حوالے سے کمیشن نے دوبارہ یہ اعادہ کیا کہ جہاں خلاف ورزی ثابت ہوگی وہاں کارروائی لازمی ہوگی اور این اے 96 کا التواء اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
کمیشن نے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ انتخابی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ انتخابی عمل کو مزید شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔