پاکستان چوتھی ترقیاتی ’’اڑان‘‘ پر گامزن ہے، معیشت میں استحکام اور وژن کی ضرورت ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
کراچی:
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی تاریخ میں تین بار ترقی کی ’’اڑان‘‘ بھرنے کی کوشش کی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر کامیاب نہ ہو سکی، تاہم اب پاکستان چوتھی اڑان بھر چکا ہے اور ہمیں استحکام و وژن کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ 1960 کی دہائی میں ترقی کی پرواز شروع کی، لیکن 1965 کی جنگ نے اس کا راستہ روک دیا۔ اُس وقت پاکستان ایشیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت تھا۔
انہوں نے کہا کہ دوسری بار 1993 میں نواز شریف کی حکومت کے دوران پاکستان نے اقتصادی اصلاحات کے ذریعے جنوبی ایشیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ تیسری کوشش 2016 میں ہوئی جب چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان کا رُخ کیا اور سی پیک کا آغاز ہوا، جس نے پاکستان کی معیشت کے لیے نئی راہیں کھولیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اب پاکستان نے ’’اڑان پاکستان پروگرام‘‘ کے تحت چوتھی اڑان بھری ہے، جس میں حکومت اسکلز ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل انوویشن، اور معیشت کے استحکام پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بے پناہ ٹیلنٹ اور وسائل موجود ہیں، اصل چیلنج صرف مؤثر مینجمنٹ کا ہے۔
احسن اقبال نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قومی مفاد کے لیے حاصل کی گئی ایک تاریخی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ ماڈل دنیا بھر کے لیے ایک ’’یونیورسل ماڈل آف سکسیس‘‘ بن چکا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر چیئرمین بار بار بدلے جاتے جیسے وزرائے اعظم تبدیل ہوتے ہیں، تو پاکستان ایٹم بم کے بجائے پھل جڑی بنا رہا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روپیہ کی قدر مستحکم ہوئی ہے، اسٹاک مارکیٹ نے نئے ریکارڈز قائم کیے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو چکا ہے۔ پاکستان کو اپنی معیشت کو ایک ’’برِج اکانومی‘‘ کی شکل میں مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ چین نے جدید زراعت اور صنعتی ترقی کو بنیاد بنا کر اپنی معیشت کو کھڑا کیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے حالیہ دورۂ ملائیشیا سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں اور پاکستان کے پاس دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک ورلڈ کلاس ’’ہوم گراؤنڈ ماڈل‘‘ موجود ہے۔ ہمیں مغرب کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے وسائل اور صلاحیتوں پر اعتماد کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک محنتی، باصلاحیت اور جڑا ہوا معاشرہ ہے۔ 28 مئی 1999 کو پاکستان ایک ایٹمی طاقت بنا، جو اللہ کی خاص نعمت ہے۔ پاکستان اپنی تقدیر بدلنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، بس ضرورت صرف استحکام اور مؤثر قیادت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے وفاقی وزیر پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان نے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ