کراچی:

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے کراچی والوں کو سہانے خواب تو دکھائے مگر وفا نہیں کی۔

ضلع وسطی کے علاقے ناگن چورنگی صدیق اکبر روڈ پر مختلف ترقیاتی اسکیموں کے سنگِ بنیاد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ وہ اس وقت ضلعی قیادت کے ہمراہ جماعت اسلامی کے زیرانتظام ٹاؤن میں موجود ہیں جہاں سڑکوں کی خستہ حالی عوام کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے باوضو احتجاجی کارکنوں کا ہے، جو کام کرنے کے بجائے لوگوں کی مشکلات بڑھاتے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلا تفریق عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے مطابق ہر ضلع اور ٹاؤن میں پارٹی کے جیالے عوامی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ماتحت 106 شاہراہوں کی مرمت و بحالی کا کام جاری ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کے ایم سی عوامی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہے۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ نیوکراچی سمیت تمام علاقے کراچی والوں کے ہیں، کسی سیاسی جماعت کے نہیں۔ جماعت اسلامی احتجاج اور بینرز لگانے میں مصروف ہے جب کہ پیپلز پارٹی عملی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایک لاکھ 65 ہزار اسکوائر فٹ روڈ کارپیٹنگ، ساڑھے 3 لاکھ مشین کارپیٹنگ اور پور بلاک لگانے کا کام جاری ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ ہم حافظ نعیم الرحمن کی یونین کونسل میں بھی 2 لاکھ 35 ہزار اسکوائر فٹ سڑک تعمیر کر رہے ہیں، ساتھ ہی 1.

1 کلومیٹر نالے کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔ شہر کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے 28 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تفریق، تعصب اور تنقید کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا، کیونکہ کراچی والوں کو خدمت چاہیے، نعرے نہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ منگھوپیر سے نیوکراچی کو ملانے والی سڑک کی ازسر نو تعمیر جاری ہے جبکہ ڈاڈیکس کی خستہ حال سڑک کا ٹینڈر جمعے کو جاری کیا جائے گا۔

میئر کراچی نے کہا کہ عوام پر کوئی احسان نہیں، یہ انہی کا پیسہ ہے جو انہی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فورکے چورنگی پر 2 نئے فلائی اوورز تعمیر کیے جائیں گے تاکہ ٹریفک کے مسائل کم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نیوکراچی سندھی ہوٹل کے نالے پر دکانوں کا مسئلہ حل کرکے نکاسی آب کا راستہ کھولنا چاہتا ہوں لیکن سیاست چمکانے کے لیے کورٹ سے رجوع کرنے والوں کی وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ ماضی میں کراچی کو کمرشلائزڈ کرکے پورے شہر کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ باتوں سے باہر نکل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، جو 600 سڑکیں بن رہی ہیں وہ کیسے بن رہی ہیں؟  سندھ گورنمنٹ کلک اور سوئی سدرن گیس کمپنی ان کو پیسے دے رہی ہے، انہوں نے خود کچھ نہیں کیا۔ ٹاؤن کی انکروچمنٹ کی ٹیمیں صرف مافیا کا کام کر رہی ہیں۔ یہ تھنڈر اسکواڈ کا زمانہ نہیں ہے، ہمارے بڑوں نے وہ وقت بھی دیکھا ہوا ہے۔ میرے خلاف اگر کسی کو کورٹ میں جانا ہے تو شوق سے جائے۔ میں منافقت کو ایکسپوز کرکے رہوں گا، ہم ہر جگہ کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی والوں میئر کراچی وہاب نے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی