الیشکن کمیشن نے پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی کو آزاد قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 اکتوبر2025ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اتحاد کونسل اور پاکستان تحریک انصاف اور کے ارکان اسمبلی کو آزاد قرار دے دیا۔ میڈیا رپورٹس مطابق الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کےحکم کی روشنی میں تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ الیکشن کمیشن نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی پارٹی پوزیشن جاری کردی۔
الیکشن کمیشن نے فیصلہ سپریم کورٹ کے 25 اگست کے فیصلے کی روشی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین کو آزاد ظاہر کر دیا۔ فہرست میں سنی اتحاد کونسل کے ایک رکن کو ظاہر کیا گیا ہے۔ تمام اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشنز میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور نئی فہرستیں جاری کردی گئی ہیں۔ دوسری جانب نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب کیسے ہوگا؟ طریقہ کار منظر عام پر آگیا۔(جاری ہے)
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنا استعفیٰ گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال کریں گے، گورنر استعفیٰ کی سمری پر 48 گھنٹوں میں دستخط کرکے استعفیٰ کی منظوری دیں گے۔استعفیٰ منظور ہونے پرخیبر پختونخوا کی کابینہ بھی تحلیل ہو جائے گی۔ استعفیٰ منظوری کے بعد پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نئے وزیراعلیٰ کی نامزدگی کی توثیق کی جائے گی ۔ نامزد وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے سپیکر کی جانب سے اسمبلی اجلاس طلب کیا جائے گا۔اسمبلی اجلاس میں ووٹنگ کے ذریعے نامزد وزیراعلیٰ کو اپنی اکثریت ثابت کرنا ہوگی۔خیبرپختونخوا اسمبلی کے 145 اراکین کے ایوان میں اکثریت کے لئے 73 اراکین کی حمایت درکار ہوگی، پی ٹی آئی کو 90 سے زائد اراکین کی اکثریت حاصل ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے الیکشن کمیشن اتحاد کونسل
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔