برطانوی ہوم آفس نے اعلان کیا ہے کہ دسمبر سے نیا پاسپورٹ جاری کیا جائے گا، تمام نئے پاسپورٹس کے سرورق پر بادشاہ چارلس سوم کا شاہی نشان نمایاں طور پر شامل ہوگا۔

محکمے کے مطابق یہ پاسپورٹ پچھلے 5 برسوں میں مکمل طور پر نیا ڈیزائن رکھنے والا پہلا برطانوی پاسپورٹ ہوگا، جسے اب تک کا سب سے محفوظ پاسپورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افغان پاسپورٹ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، مسافر گرفتار

پاسپورٹ کے اندرونی صفحات میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں برطانیہ کے چاروں حصوں بین نیوس (اسکاٹ لینڈ)، لیک ڈسٹرکٹ (انگلینڈ)، تھری کلفس بے (ویلز) اور جائنٹس کاز وے (شمالی آئرلینڈ) کے قدرتی مناظر شامل ہیں۔

ہوم آفس کے مطابق نئے پاسپورٹ میں جعلسازی سے بچاؤ کے لیے جدید ترین حفاظتی ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے جن میں ہولوگرافک اور شفاف خصوصیات بھی شامل ہیں، جو پاسپورٹ کی تصدیق کو آسان اور جعلسازی کو تقریباً ناممکن بنائیں گی۔

امیگریشن اور شہریت کے وزیر مائیک ٹیپ نے کہا کہ بادشاہ کے شاہی نشان، برطانیہ کے تاریخی مناظر اور جدید حفاظتی خصوصیات کا امتزاج برطانوی پاسپورٹ کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ ہماری شاندار عوامی خدمت اور برطانوی ورثے کے احترام کا مظہر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ کون سا ہے اور درجہ بندی میں گرین پاسپورٹ کہاں کھڑا ہے؟

ہوم آفس نے واضح کیا کہ ملکہ الزبتھ دوم کے شاہی نشان والے پرانے پاسپورٹس اپنی میعاد ختم ہونے تک قابلِ استعمال رہیں گے، تاہم شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹس کی میعاد بروقت چیک کریں اور سفر سے قبل تجدید کروائیں۔

واضح رہے کہ پہلا جدید طرز کا برطانوی پاسپورٹ 1915ء میں جاری کیا گیا تھا، جبکہ پہلا حفاظتی فیچر یعنی واٹر مارک 1972ء میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک درجنوں نئی حفاظتی خصوصیات متعارف کرائی جا چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا