برطانیہ کا نیا پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ، یہ کن منفرد خصوصیات کا حامل ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
برطانوی ہوم آفس نے اعلان کیا ہے کہ دسمبر سے نیا پاسپورٹ جاری کیا جائے گا، تمام نئے پاسپورٹس کے سرورق پر بادشاہ چارلس سوم کا شاہی نشان نمایاں طور پر شامل ہوگا۔
محکمے کے مطابق یہ پاسپورٹ پچھلے 5 برسوں میں مکمل طور پر نیا ڈیزائن رکھنے والا پہلا برطانوی پاسپورٹ ہوگا، جسے اب تک کا سب سے محفوظ پاسپورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغان پاسپورٹ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، مسافر گرفتار
پاسپورٹ کے اندرونی صفحات میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں برطانیہ کے چاروں حصوں بین نیوس (اسکاٹ لینڈ)، لیک ڈسٹرکٹ (انگلینڈ)، تھری کلفس بے (ویلز) اور جائنٹس کاز وے (شمالی آئرلینڈ) کے قدرتی مناظر شامل ہیں۔
ہوم آفس کے مطابق نئے پاسپورٹ میں جعلسازی سے بچاؤ کے لیے جدید ترین حفاظتی ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے جن میں ہولوگرافک اور شفاف خصوصیات بھی شامل ہیں، جو پاسپورٹ کی تصدیق کو آسان اور جعلسازی کو تقریباً ناممکن بنائیں گی۔
امیگریشن اور شہریت کے وزیر مائیک ٹیپ نے کہا کہ بادشاہ کے شاہی نشان، برطانیہ کے تاریخی مناظر اور جدید حفاظتی خصوصیات کا امتزاج برطانوی پاسپورٹ کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ ہماری شاندار عوامی خدمت اور برطانوی ورثے کے احترام کا مظہر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ کون سا ہے اور درجہ بندی میں گرین پاسپورٹ کہاں کھڑا ہے؟
ہوم آفس نے واضح کیا کہ ملکہ الزبتھ دوم کے شاہی نشان والے پرانے پاسپورٹس اپنی میعاد ختم ہونے تک قابلِ استعمال رہیں گے، تاہم شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹس کی میعاد بروقت چیک کریں اور سفر سے قبل تجدید کروائیں۔
واضح رہے کہ پہلا جدید طرز کا برطانوی پاسپورٹ 1915ء میں جاری کیا گیا تھا، جبکہ پہلا حفاظتی فیچر یعنی واٹر مارک 1972ء میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک درجنوں نئی حفاظتی خصوصیات متعارف کرائی جا چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔